بھارتی فورسز نے جبرواستبداد کی کارروائیوں کے ذریعے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ا
اسلام آباد:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہر شہری خوف و دہشت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیں جنہوں نے محاصرے اور تلاشی کی بلاجواز کارروائیوں ، گھروں پر چھاپوں اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ۔مودی حکومت نے اگست 2019 میں علاقے کی خصوصی حیثیت چھیننے کے بعد ریاست دہشت گردی میں تیزی لائی ہے اور کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے۔ مقبوضہ علاقہ اس وقت ایک بڑی جیل کا منظر پیش کر رہا ہے اور بھارتی فورسز کے بے لگام اہلکار بلا امتیازجنس وعمر کشمیریوںکو اپنی بے انتہا چیرہ دستیوںکا نشانہ بنا رہے ہیں۔
مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل طور پر سلب ہے اور جو کوئی بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت فورا ً سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ مودی حکومت کشمیریوںکو انکے گھروں زمینوں اور دیگر املاک سے مسلسل محروم اور کشمیری سرکاری ملازمین کو نوکروں سے برطرف کر رہی ہے۔تاہم جبر و ستم کے ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری بھارتی قبضے سے آزادی کی اپنی منصفانہ جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں۔




