جنیوا

اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بنیادی حقوق کو سلب کیا جا رہا ہے؛آئی ایم ڈبلیو یو

جنیوا انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین (آئی ایم ڈبلیو یو) نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سکڑتی ہوئی شہری آزادیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگست 2019 کی تبدیلیوں کے بعد علاقے میں بنیادی حقوق کو منظم طریقے سے سلب کیا جا رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین کی نمائندہ صوبیہ شال نے کہاکہ اظہاررائے،اجتماع، تنظیم سازی اورسیاسی شرکت کی آزادی سمیت شہری آزادیاں حکومتوں کی طرف سے عطا کردہ رعایتیں نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی حقوق ہےں۔انہوں نے کہاکہ حالیہ برسوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی پابندیاں، سیاسی رہنماو¿ں اور نوجوانوں کی نظربندیاں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی نگرانی میں اضافہ اور پرامن اجتماع اور احتجاج پر پابندیاں ہیں۔صوبیہ شال نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مسلسل بندش نے علاقے میں مواصلات، تعلیم، طبی سہولیات تک رسائی اور اقتصادی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انٹرنیٹ تک رسائی غیر یقینی ہو جاتی ہے، اظہار رائے کی آزادی کمزور ہو جاتی ہے، اور جب اجتماع پر پابندی لگ جاتی ہے تو جمہوری عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسپیس جو کبھی کشمیری نوجوانوں کو بااختیار بنانے کاایک ذریعہ تھا، تیزی سے سخت نگرانی اور قانون کی زدمیںآ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں تعلیم، تجارت اور آزادانہ سوچ کے لیے رابطہ ضروری ہے اور طویل عرصے تک بندش انسانی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ان پابندیوں کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طلباءآن لائن کلاسز میں شرکت سے قاصر ہیں، صحافیوں کو رپورٹنگ پر قانونی نتائج کے خوف کا سامناہے، چھوٹے کاروباری مالکان ڈیجیٹل کاروبارمیں خلل کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں اور مواصلاتی بلیک آو¿ٹ کے دوران لوگ اپنے پیاروں سے کٹے رہتے ہیں۔مسلم ویمنز یونین نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بگرٹی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق علاقے میں بنیادی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button