انجینئر رشید کاامریکی حملے سے متاثرہ ایرانی اسکول کے لیے اپنی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان
نئی دہلی: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں حلقہ انتخاب بارہمولہ سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر رشید نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ ایرانی شہر مناب کے ایک اسکول کی تعمیر نو کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان کیاہے جہاں 28 فروری کو امریکی حملے میں 100 سے زائد بچے شہیدہوئے تھے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انجینئر رشید نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہوں تو سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنی ایک ماہ کی تنخواہ اس اسکول کی تعمیر نو کے لیے عطیہ کروں گا جہاں سو سے زائد بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایک چھوٹا سا تعاون ہے، لیکن یہ انسانیت کے تئیں ہماری ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کشمیریوں کی طرف سے اظہار یکجہتی کو اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے کے لوگ بڑی تعداد میں ایران میں امریکی و اسرائیلی جارحیت کے متاثرین کی حمایت کے لیے آگے آئے ہیں اور جو کچھ بھی ہو سکا انہوں نے کیا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ناانصافی کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ عالمی امورمیں ہمدردانہ اور متوازن رویہ اپنائے۔ انجینئر رشید نے قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اور سر سید احمد خان جیسی تاریخی مسلمان شخصیات کو تعلیمی نصاب سے خارج کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان کو غیر منصفانہ قرار دیا ۔ انہوں نے تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کسی بھی کوشش سے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ شخصیات کو نصاب سے خارج کر کے تاریخ کو مٹا یا نہیں جا سکتا۔ انجینئررشیدنے مقبوضہ جموں و کشمیرکی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔





