ارشد میر
عالمی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف واقعات نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا رخ متعین کرتے ہیں۔ موجودہ عالمی منظرنامہ، خصوصاً امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، اسی نوعیت کا ایک نازک موڑ ہے جسے کئی مبصرین تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ریاست اس جنگ کو بند اور کشیدگی کو کم کرنے، متحارب قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کی کوشش کرے تو یہ صرف سفارت کاری نہیں بلکہ انسانیت کی اعلیٰ ترین درجہ کی خدمت ہے۔ بہت سوں، خصوصا بھارتیوں کے لئے حیرت انگیز طور پر یہ کردار دنیا کے 195 ملکوں میں سے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان ادا کر رہا ہےاور یہی حقیقت بھارت کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت بن چکی ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطوں میں پاکستان کا بطور اہم ثالث ابھرنا عالمی سطح پر نہ صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ اسے ایک “قابلِ اعتماد پل” قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر ایک ایسے سفارتی بلاک کی شکل اختیار کر چکا ہے جو متحارب قوتوں کے درمیان اعتماد سازی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ یہ پیش رفت اُس بیانیے کے برعکس ہے جسے بھارت گزشتہ ایک دہائی سے فروغ دیتا رہا،یعنی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا اور غیر متعلق ثابت کرنا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے اس مثبت کردار سے خوش ہونا چاہیے یا خائف؟ بظاہر تو جواب واضح ہے کہ اگر پاکستان کی سفارت کاری عالمی جنگ کے خطرے کو ٹالتی ہے تو اس کا فائدہ صرف پاکستان کو نہیں بلکہ بھارت سمیت پوری دنیا کو پہنچے گا۔ اس وقت بھارت کے مختلف علاقوں، خصوصاً گجرات اور مہاراشٹرا میں ایندھن کی قلت کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر پاکستان کے کردار سے یہ بحران کم ہوتا ہے تو کیا یہ بھارت کے لیے خوش آئند نہیں ہونا چاہیے؟ ششی تھرور جیسے چند باشعور بھارتی رہنما اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کا خیر مقدم کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر بھارتی بیانیہ ابھی بھی تعصب اور انکار کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ بھارت کے سیاسی و سفارتی حلقوں میں جو بے چینی، حسد اور اضطراب دیکھنے کو مل رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ امن یا استحکام نہیں بلکہ “پاکستان” دشمنی کا ہے۔
یہ تعصب محض سفارتی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ بھارت کی موجودہ قیادت ایک ایسے بیانیے پر کھڑی ہے جس میں پاکستان کو ہر صورت منفی دکھانا ضروری ہےچاہے حقیقت اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان ایک مثبت، تعمیری اور عالمی سطح پر سراہا جانے والا کردار ادا کرتا ہے تو بھارت کے لیے اسے تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ تعریف کے بجائے تنقید اور تعاون کے بجائے مخالفت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ بھارت کا بڑا مسلہ ہے کہ وہ پاکستان فوبیا کا شکار ہے۔ وہ ہر کام پاکستان کو مدنظر رکھ کر کرتا جسکی وجہ سے اسکا ریاستی مزاج یا ریاستی ذہن ایک خول میں بند ہو چکا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا حالیہ بیان،جس میں انہوں نے پاکستان کے خلاف انتہائی غیر مہذب زبان استعمال کی،درحقیقت اسی تعصب کے دائروں میں بند ذہنی ذہنیت کا عکاس ہے۔ ایک مہذب دنیا میں سفارت کار الفاظ کو پل بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، دیواریں کھڑی کرنے کے لیے نہیں۔ مگر بھارت کے وزیر خارجہ نے جو زبان استعمال کی وہ نہ صرف سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بھارت حجم میں جتنا بڑا ہے ریاستی روش ، اخلاقیات، سفارتی آداب اور سیاسی قد میں اتنا ہی چھوٹا او ر کم ظرف ہے۔ ایک بڑا ملک ہونے کا مطلب صرف آبادی یا رقبہ نہیں ہوتا بلکہ کردار، بصیرت اور برداشت بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں اور یہی عناصر اس وقت بھارت میں ناپید دکھائی دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان کسی مضبوط سفارتی پوزیشن کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی بوکھلاہٹ ہے جو خود کو عالمی معاملات سے باہر پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھارت واقعی ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے تو اسے اس سطح کی زبان استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جواب سادہ ہے کہ سفارتی میدان میں ناکامی کو چھپانے کے لیے الفاظ کی گندگی ہی واحد سہارا رہ گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے اندر بھی اس صورتحال پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ کانگریس رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور حتیٰ کہ بعض حکومتی ناقدین نے بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو “ناکام” اور “مذاق” قرار دیا ہے۔ راہول گاندھی، پون کھیرا اور جے رام رمیش جیسے رہنماؤں نے کھل کر سوال اٹھایا ہے کہ جب پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک عالمی امن کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں تو بھارت کہاں کھڑا ہے؟ یہ سوال دراصل صرف اپوزیشن کا نہیں بلکہ پورے بھارتی معاشرے کی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ وہی بھارت ہے جو کبھی دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے بعد اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ نریندر مودی اور ان کا گودی میڈیا برسوں تک یہی بیانیہ دہراتا رہا کہ پاکستان عالمی سطح پر غیر متعلق ہو چکا ہے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہیں جبکہ نئی دہلی سفارتی منظرنامے سے تقریباً غائب ہے۔
بھارت کی اس سفارتی تنہائی کی ایک بڑی وجہ اس کی غیر متوازن خارجہ پالیسی ہے۔ حالیہ بحران میں بھارت نے کھل کر امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا ،یہاں تک کہ اسرائیل کو باپ بھی بنادیاجبکہ ایران جیسے اہم ہمسایہ ملک کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایک متوازن، غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ کردار اپنایا، جس نے اسے فریقین کے درمیان ایک قابلِ اعتماد ثالث بنا دیا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو دونوں ممالک کی سفارتی ساکھ کو متعین کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک مثبت مثال کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ روابط، خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات، اور ایک متوازن خارجہ پالیسی نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ متحارب قوتوں کے درمیان اعتماد کا پل بن سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط سفارتی حکمت عملی اور جغرافیائی اہمیت کا نتیجہ ہے۔
اگر پاکستان اس بحران میں کامیاب ثالثی کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی تاریخ کا ایک سنہری باب ہوگا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اس کی حیثیت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے بھارت کو سب سے زیادہ پریشان کر رکھا ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ بیانیہ، جس کے تحت پاکستان کو ایک “ناکام ریاست” قرار دیا جاتا تھا، مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا۔
مئی 2025 میں بھارت کی طرف سے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے بہانے پاکستان پر حملہ کرکے فوجی برتری حاصل کرنے کوشش میں بری طرح مار کھانے کے بعد سے پاکستان کی جو پذیرائی عالمی سطح پر ہورہی ہےاور بھارت جس طرح سفارتی سطح پر راندہ درگاہ ہوررہا ہے۔ اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔اس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی اور بھارت کی تنہائی میں اضافہ کا ایک سلسلہ یا رجحان قائم ہوگیا ہے جس کی بھارت کی تلملاہٹ پر مبنی روش سے تصدیق بھی ہوتی ہے۔امریکہ جیسے ملک، جس کے ساتھ بھارت قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتا رہا، اب پاکستان کی قیادت کو اہمیت دے رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ساتھ روابط اور انہیں دی جانے والی اہمیت اس بدلتی ہوئی حقیقت کا واضح اشارہ ہے۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جن کے صدر بننے کے لیے بھارت میں خصوصی پوجائیں کی جاتی تھیں، صدر بننے کے بعد جن کی مودی نے حد درجہ خوشامد کی، ناگوار جپھیاں ڈالیں، یورپ سے بھارتیوں کو لے جاکر ان لئے جلسہ کرایا اور تالیاں بجوائیں مگر آج وہ پاکستان کے کردار کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ وہ دنیا کے بڑے اور باثر ممالک کے سربراہان کی بیٹھک میں کسی اور کو نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم کو خصوصی طور پر دعوت خطاب دیتے اور مائک سے ہٹ کر انھیں راستہ دیتے ہیں۔ وہ ان کے ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہیں۔ جن فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے جگک مئی میں بھارت کی ٹھکائی کی، مودی کے محبوب ٹرمپ انھیں خصوصی طور پر بلاکر اعزار میں ضیافت کی میز سجاتے ہیں اور ہر موقع پر ان کے کردار اور اہمیت کی بات کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان ہی کا نام آرہا ہے۔ امریکہ ایران ، سعودیہ، روس ، چین غرض کہ دنیا کے تقریبا تمام متحارب و مخاصم ملکوں کے درمیان اعتبار، و اعتماد کا نام پاکستان ہے۔ پاکستان دنیا کو عالمی جنگ سے بچارہا ہے یہ کوئی چھوٹا کردار نہیں ہے۔ اور اگر اس میں وہ کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ کتنی بڑی سفارتی خلعت ہے جو اسکے سر سجے گی اس کا اندازہ بھارتیوں کو ہے مگر منفی صورت میں۔
الغرض آج کی دنیا میں ایک نئی صف بندی ابھرتی نظر آ رہی ہے جہاں پاکستان ایک ذمہ دار، بااعتماد اور مؤثر ریاست کے طور پر سامنے آ رہا ہے جبکہ بھارت اپنے داخلی تضادات، خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور قیادت کی کمزوریوں کے باعث پیچھے رہتا جا رہا ہے۔پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں بلکہ اس تصور کی جیت ہے کہ ذمہ دارانہ سفارت کاری، توازن اور عالمی امن کے لیے سنجیدہ کوششیں ہی اصل طاقت ہوتی ہیں۔ بھارت اگر واقعی ایک بڑی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے رویے، زبان اور پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر، وہ اپنی ہی تخلیق کردہ نفرت اور تعصب کے دائرے میں گھومتا رہے گا جبکہ پاکستان عالمی افق پر اپنی جگہ مزید مستحکم کرتا جائے گا۔






