مقبوضہ کشمیر : بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے 3 کشمیری سرکاری ملازمین برطرف

سرینگر:بی جے پی کی بھارتی حکومت نیغیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیرمیںمزیدتین کشمیری سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ محکمہ جل شکتی کے کارکنوں کو مبینہ طور پر "آزادی پسند "اور بھارت مخالف سرگرمیوں پر ملازمت سے برطرف کیاگیاہے ۔سرکاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ شوکت احمد زرگر، لیاقت علی بھگوان اور کوثر حسین بھگوان کو جنوبی کشمیر کے اسلام آباد اور کشتواڑ اضلاع سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت برطرف کر دیا گیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں قابض انتظامیہ نے کشمیری ملازمین کو "آزادی پسند اور بھارت مخالف”سرگرمیوں میں ملوث قراردیاہے ۔ ناقدین نے قابض انتظامیہ کے اس اقدام کو کشمیریوں کو پسماندہ رکھنے کی ایک دانستہ کوشش قراردیاہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کشمیری سرکاری ملازمین کی برطرفیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیاہے۔مبصرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ کشمیری سرکاری ملازمین کی جبری برطرفیوں کا مقصد غیر کشمیری ہندوئوں کی بھرتیوں کیلئے گنجائش پیدا کرنے کی مودی حکومت کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے،تاکہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو بگاڑا جاسکے۔قابض انتظامیہ کے اس اقدام کو اختلاف رائے کی آزادی پر بی جے پی کے جاری پابندی اور غیر کشمیری ہندوتوا افسران کی تعیناتی کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی انتظامی مشینری پر کنٹرول حاصل کرنے کی ساز ش کے حصے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔






