بھارت

بھارت میں غیر جانبدار یا مذہبی حوالوں کو بھی سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے

نئی دہلی: بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اورمذہب کے نام پر سیاست اپنے عروج پر ہے جہاں اب اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی تنازعے کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ سمراٹ وکرمادتیہ یونیورسٹی میں ایک امتحان میں طلباءسے اللہ تعالیٰ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اجین میں بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوال میں طلبا سے کہاگیا کہ وہ اس بات پر بحث کریں کہ”اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے“جس پر ہندو انتہاپسندتنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیاجنہوں نے اس پر علمی یا فلسفیانہ بحث کے بجائے فرقہ وارانہ تعصب کو بھڑکایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو کس طرح کے مذہبی تعصب کا سامنا ہے۔ہنگامہ آرائی کے بعد یونیورسٹی حکام نے امتحان سے سوال واپس لے لیا، طلباءکو اضافی نمبر دیے گئے اور پرچہ ترتیب دینے والے فیکلٹی ممبر کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھار ت میں ایک پریشان کن رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں غیر جانبدار یا مذہب پر مبنی حوالوں کو بھی خاص طور پر جب یہ اقلیتی برادریوں سے منسلک ہوں، سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button