ارشد میر

عالمی سیاست میں طاقت کا توازن کبھی مستقل نہیں رہتا بلکہ بدلتے حالات، سفارتی مہارت اور اسٹریٹجک فیصلے اقوام کے مقام کا تعین کرتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے سربراہ کا خطاب، امریکی صدرکا سپہ سالار کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ اور ایشیاء ٹائمز کی رپورٹ، پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کے اظہار، امریکا-ایران جنگ میں ثالثی کا غیر معمولی کردار اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت و پذیرائی پر مبنی ایک بڑی تصویر پیش کرتی ہے ۔
سب سے پہلے اگر عسکری پہلو کو دیکھا جائے تو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا خطاب غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے آپریشن “بنیان المرصوص” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن پاکستان کی صلاحیتوں اور حکمت عملی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یہ بیان محض ایک روایتی عسکری دعویٰ نہیں بلکہ ایک تاریخساز حقیقت کا ذکر ہے جس نے بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ کس طرح پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو چند مکوں سے ہی ناک آؤٹ کرکے روائتی جنگی صلاحیت میں اسکی ‘برتری’ کو ختم کرکے جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل کردیا۔یہ اس امر کی نشاندہی بھی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی تیاری، ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔ آئر چیف نے پاک فضائیہ کی کارکردگی کو خاص طور پر سراہا گیا جس نے نہ صرف دشمن کے طیارے مار گرائے بلکہ ایک نئی تاریخ رقم کی اور اسکا ذکر بدستور بھارت سے لیکر واشنگٹن میں ہورہا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ عسکری طاقت کا اظہار صرف دفاعی برتری کے لیے نہیں بلکہ سفارتی وزن بڑھانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی دفاعی صلاحیت کو مؤثر انداز میں منواتا ہے تو عالمی طاقتیں اسے زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ائیر چیف نے اپنے خطاب میں صرف جنگی کامیابیوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو بھی سراہا، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو نمایاں کیا۔
یہی تسلسل ہمیں سفارتی محاذ پر بھی نظر آتا ہے۔ واشنگٹن میں جمعہ کے روز ہوئے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کو خطے کے اہم معاملات میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اجلاس، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، میں جنگی صورتحال، آبنائے ہرمز کے کھولنے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے احیاء پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ رابطہ معمولی نوعیت کا نہیں تھا۔ عالمی سیاست میں اس طرح کے براہ راست عسکری رابطے اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ متعلقہ ملک کو نہ صرف اہمیت دی جا رہی ہے بلکہ اسے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بھی سمجھا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک رسمی مشاورت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اسٹریٹجک مشاورت تھی جس میں پاکستان کی اہمیت کی مزید تصدیق ہوگئی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ صورتحال میں جنگ بندی کی کوششیں اور مذاکرات کی بحالی ایک نازک مرحلہ ہے۔ یہاں پاکستان کا کردار بطور ثالث یا سہولت کار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک سے رابطے برقرار رکھے بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تاثر کی بات کی جائے تو ایشیا ٹائمز کی رپورٹ خاصی اہم اور معنی خیز ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان سے بہتر تعلقات کے بعد امریکا کے لیے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ رائے بظاہر سادہ سی لگتی ہے لیکن اس کے اندر گہری سفارتی حقیقت پوشیدہ ہے۔ عالمی طاقتیں ہمیشہ ایسے شراکت داروں کو ترجیح دیتی ہیں جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کریں بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی کردار ادا کریں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران-امریکا کشیدگی کے دوران ایک فعال کردار ادا کیا جبکہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی سفارتکاری غیر مؤثر اور غلط کنارے کھڑی دکھائی دی۔ بھارت نے اپنی توجہ زیادہ تر توانائی اور سپلائی جیسے معاملات تک محدود رکھی جبکہ خطے کے بڑے سکیورٹی چیلنجز میں اس کا کردار نمایاں نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اندر بھی اپوزیشن، میڈیا اور ماہرین خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بھارت ایک بڑی معیشت اور اہم علاقائی طاقت ضرور ہے لیکن سفارتکاری میں صرف معاشی طاقت کافی نہیں ہوتی، بروقت فیصلے، فعال کردار اور بحرانوں میں مؤثر حکمت عملی ہی کسی ملک کو حقیقی معنوں میں اہم بناتی ہے۔ پاکستان نے حالیہ صورتحال میں یہی کر دکھایا ہے۔
تاہم اس سارے منظرنامے کو یک طرفہ انداز میں دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ عالمی سیاست مفادات کا کھیل ہے اور آج جو ملک اہم ہے کل وہی پس منظر میں بھی جا سکتا ہے۔ امریکا کی پالیسی ہمیشہ اپنے مفادات کے تابع رہی ہے اور وہ بیک وقت کئی ممالک کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ بھارت مکمل طور پر غیر متعلق ہو چکا ہے، شاید مبالغہ ہوگا۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان نے اپنی اہمیت منوا لی ہے، وہ بلاشبہ بھارت سے کہیں آگے Net Stabilizer اور Net Security Provider کے طور پر سامنے آرہا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب یہ ہے کہ وہ اس موقع کو کس طرح مستقل کامیابی میں تبدیل کرتا ہے۔ صرف عسکری یا سفارتی کامیابیاں کافی نہیں ہوتیں جب تک کہ ان کے ساتھ داخلی استحکام، معاشی ترقی اور سیاسی ہم آہنگی نہ ہو۔ اگر پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوتا ہے تو اس کی عالمی حیثیت خود بخود مستحکم ہو جائے گی۔
پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ امریکا کے ساتھ تعلقات اہم ہیں لیکن چین، مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔جس موجودہ قیادت نے اپنی صلاحیت، فہم، حکمت اور جرات کے ساتھ پاکستان کو اس تایخساز مقام تک پہنچا دیا یقینا وہ آگاہ ہوگی کہ ایک متوازن اور کثیر جہتی خارجہ پالیسی ہی پاکستان کو طویل مدت میں فائدہ دے سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت ایک نئے سفارتی اور اسٹریٹجک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اس کی عسکری طاقت عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے تو دوسری طرف اس کی سفارتی کوششیں اسے ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس کے برعکس بھارت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ان کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کے بجائے ہر معاملہ کو پاکستان دشمنی میں دیکھنے اور اقدامات کرنے کی حکمت عملی اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بھارت اپنی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لاتا ہے یا پاکستان اپنی موجودہ برتری کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
المختصر یہ کہ یہ تینوں رپورٹس ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان اب صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ملک بن گیا جو عالمی فیصلوں، نظروں، امیدوں اور فیصلوں کا محور بن رہا ہے۔ یہی وہ موقع ہے جسے درست حکمت عملی کے ذریعے ایک دیرپا کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔








