کشمیری خیرات نہیں مانگ رہے ، اپنے حقوق اور وقار کی بحالی چاہتے ہیں، تاریگامی
جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی انڈیا مارکسسٹ کے رہنما اور اسمبلی رکن محمد یوسف تاریگامی نے کشمیریوں کے لیے ملازمت اور زمین کے حقوق کی بحالی پر زور دیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق تاریگامی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگوں کے بنیادی مفادات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خطے کی اصل آئینی حیثیت بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے 13 جولائی 1931 کے شہداء کے بارے میں بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک سینئر رہنمانے اس طرح کے الفاظ کہے ہیں ،تاریخ کو جاننا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے لداخ کو جموںوکشمیر سے الگ کیا، جموںوکشمیر کا ریاستی درجہ ختم کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام کر لیا ۔انہو ں نے لیفٹیننٹ گورنر کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہامجھے ایک مثال پیش کریں کہ ایک ریاست کو یونین کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا ہے، ایک نامزد گورنر جموں و کشمیر کے شہریوں کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ جموںوکشمیر کے لوگ خیرات نہیں مانگ رہے بلکہ اپنے حقوق اور وقار کی بحالی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں کبھی بھی فرقہ پرستی نہیں دیکھی گئی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر میں اس حوالے سے ہمیشہ امن رہا ہے۔KMS-





