مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت نے انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو ”ڈیجیٹل کیج” میں تبدیل کر دیا ہے: مبصرین

سرینگر: مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بار بار انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی معطلی نے مقبوضہ علاقے کو ڈیجیٹل کیج میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں کشمیری شہری کومسلسل ڈیجیٹل پابندیوں اور نگرانی کا سامنا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کیلئے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ بین الاقوامی ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشن ایکسس نائو نے انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کیلئے بھارت کو دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل کیاہے۔2016کے بعد سے، بھارت میں900دفعہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں جو کہ عالمی سطح پر انٹرنیٹ شٹ ڈائون کا تقریبا نصف ہے جبکہ صرف گزشتہ سال بھارت میں65مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں جو میانمار کے بعد دوسری بڑی تعداد ہے۔اسکے باوجود مودی کی زیر قیادت بھارت حکومت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار ہے تجزیہ کاروں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیردنیا کا واحد خطہ ہے جہاں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی شرح سب سے زیادہ ہے ، 2012سے 2026کے اوائل تک مقبوضہ علاقے میں 447مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں ، جس سے مودی حکومت کی ڈیجیٹل جبر کی پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔اگست 2019 میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد، مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں مکمل مواصلاتی بلیک آئوٹ نافذ کر دیا۔ موبائل سروسز، ایس ایم ایس، لینڈ لائنز اور انٹرنیٹ تک رسائی کو معطل کر دیا گیا جو کہ جموں وکشمیر کی تاریخ کا سب سے طویل انٹرنیٹ شٹ ڈائون ہے ، جوتقریبا 550دن تک جاری رہا۔ فروری 2021میں مقبوضہ کشمیرمیں سست رفتار2G انٹرنیٹ سروسز جزوی طورپربحال کی گئی ۔مقبوضہ کشمیر میں 2019میں 65بار، 2020میں 55، 2021میں 116، 2022میں 79، 2023میں 43 جبکہ رواں سال اب تک کم سے کم 11مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی جاچکی ہیں ۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہناہے کہ بار بارانٹرنیٹ سروسز کی معطلی اور پابندیوں نے مقبوضہ علاقے میں عام کشمیریوں کی ڈیجیٹل سروسز تک رسائی تقریبا ناممکن بنا دی ہے۔ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان پابندیوں نے مقبوضہ کشمیر میں تعلیم، صحت، صحافت، کاروبار اور روزمرہ زندگی کوبری طرح متاثر کیا ہے جبکہ مبصرین نے اسے خطے میں نگرانی اور کنٹرول کے نظام کا حصہ قرار دیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button