مقبوضہ کشمیر : ہندو امر ناتھ یاترا کیلئے بھارتی فورسز کی 670کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری

نئی دلی :مودی کی بھارتی حکومت نے غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سالانہ ہندوامرناتھ جی یاترا کیلئے بھارتی فوج کی 670کمپنیوں کو مقبوضہ کشمیرمیں تعیناتی کی منظوری دی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے پیراملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی670کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے ۔ 57روزہ ہندو امرناتھ یاترا 3جولائی کو شروع ہوگی جو 28اگست تک جاری رہے گی ۔ یاترا کے دوران بھارت بھر سے ہنو یاتریوں کی بڑی تعدادمقبوضہ جموں و کشمیر پہنچی گی۔یاتریوں کی سکیورٹی کے نام پر مودی حکومت نے لاکھوں بھارتی فورسز کی مقبوضہ علاقے میں تعیناتی کا منصوبہ بنایا ہے ۔ منصوبے کے تحت بھارتی فورسز کو انٹری پوائنٹ لکھن پور سے لے کر جنوبی کشمیر میں واقع امرناتھ غار تک مختلف مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔بھارتی فورسز کو بال تل اور پہلگام کے دونوں روایتی راستوں، ننون اور بال تل بیس کیمپوں، یاتری نواس جموں، جموں وسرینگر قومی شاہراہ، پٹھانکوٹ-جموں ہائی وے اور دیگر اہم مقامات پر بھی تعینات کیا جائے گا۔بھارتی قابض فورسز جون کے پہلے ہفتے سے جموں و کشمیر پہنچنا شروع ہوجائیں گے جبکہ مکمل تعیناتی 25جون تک مکمل کر لی جائے گی۔بھارتی فوجی اہلکار بھی یاترا کے دوران امرناتھ غار اور یاتراکے راستوں کی نگرانی کرتی رہے گی ۔
واضح رہے کہ ماحولیاتی طورپر حساس مقبوضہ جموں وکشمیرمیں لاکھوں کی تعداد میں ہندو امرناتھ یاتریوں کی آمد کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کے ماحول کو سنگین خطرہ لاحق ہے ۔




