کشمیری بھارت کے 5اگست2019کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں: یوسف نسیم
اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموں وکشمیر شاخ کے سینئر رہنما سید یوسف نسیم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس دن بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اوراسے مرکزکے زیر انتظام دوعلاقوں میں تقسیم کردیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید یوسف نسیم نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جموں و کشمیر صدیوں سے ایک منفرد تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی وحدت کی حامل ریاست کے طور پر موجود رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے ایک آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیاتاکہ وہ خود اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرسکیں۔ انہوں نے کہا بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کے دو تہائی حصے پر قبضہ کرکےکشمیریوںکوان کے تسلیم شدہ حق خود ارادیت سے محروم کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کے 5اگست2019کے یکطرفہ اقدامات سے ریاست کی تاریخی شناخت، سیاسی تشخص اور ثقافتی ورثہ متاثرہوا اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیری ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور 5 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کی توجہ تنازعہ جموں وکشمیر اوربھارت کے ظالمانہ اقدامات کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ریاست کے عوام کو ان کاحق خود ارادیت نہیں دیاجاتا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ہر خطہ اور عوام اپنے وطن کی آزادی کے لیے پرعزم ہیں۔یوسف نسیم نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خوداردیت دلانے میں اپنا کردار اداکریں ۔ انہوں نے کشمیری عوام کی مسلسل سیاسی،سفارتی اوراخلاقی حمایت کرنے اور مسئلہ کشمیر کوبین االاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔






