
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 61ویں اجلاس کے دوران باکو انیشی ایٹو گروپ (BIG) اور سکھ فیڈریشن انٹرنیشنل نے بھارت کی طرف سے سرحد پار کارروائیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے جس میں بھارت کی سرحد پار کارروائیوں، خفیہ نیٹ ورکس، سیاسی مخالفین کی نگرانی اور بیرون ملک سرگرم سکھ، کشمیری اور دیگر اقلیتی برادریوں کو دبانے کی کوششوں پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں تفصیل اور حوالہ جات کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس طرح وہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور جرمنی جیسے بیرون ممالک میں مقیم اپنے مخالفین خاص طور پر آزادی پسند سیاسی کارکنوں کو بھی قتل نگرانی، دھمکیوں اور دباؤ کا نشانہ بناتا ہے۔ اس ضمن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر سمیت دو خالصتان پسند سکھ کارکنوں کے قتل، امریکہ میں سکھس فار جسٹس کے ترجمان گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کئے جانے کی سازش، جو امریکہ سی آئی اے نے بروقت ناکام بنادی اور اوتار سنگھ کھنڈا کی موت کی مثالیں پیش کی گئیں۔ رپورٹ میں بھارت کو عالمی عدم استحکام کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور اقوام متحدہ سے اسکے خلاف موثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
خالصتان تحریک پنجاب میں ایک الگ سکھ ریاست کا مطالبہ کرتی ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنے عروج پر تھی۔ بھارت نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے نہ صرف ہزاروں سکھوں کو قتل و قید کیا بلکہ 1984 میں بدنام زمانہ آپریشن بلیو اسٹار کے تحت سکھوں کے سب سے مقدس مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل امرتسر پر فوج کشی کی اور اسکو تقریباً تباہ کرنے کے علاوہ بندراوالہ جیسے رہنماؤں سمیت سینکڑوں سکھوں کو قتل کیا۔ بھارتی مظالم کا مزید نشانہ بننے سے بچنے کی خاطر ہزاروں سکھوں نے کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں پناہ لی۔ یہ سکھ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار تھے اور ان کی جہدوجہد سیاسی اور جمہوری ہے تبھی تو امیگریشن کے سخت ضابطے رکھنے والے ان ممالک نے انھیں نہ صرف پناہی دی بلکہ خالصتان پسند سرگرمیوں کی بھی اجازت۔ ان سکھوں کی بھارت سے نفرت کا اظہار جس میں وہ بھارتی ترنگا جلاتے اور مذکورہ ممالک کے دوروں کے دوران بھارتی رہنماؤں اور سفارتکاروں کو روک کر بھارت مخالف و خالصتان پسند نعرے لگانے سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ جذباتی و روحانی اعتبار سے کس قدر زخمی ہیں اور بھارت سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ وہ آسٹریلیا اور نیوزی سے لیکر برطانیہ و جرمنی اور امریکہ تک آئے روز خالصتان کے حق میں ریفرنڈم کراتے ہیں جس میں لاکھوں سکھ شرکت کرکے اپنے الگ اور آزاد وطن کی خواہش کا سیاسی اظہار کرتے ہیں۔
بھارت ان سرگرمیوں سے بڑا پریشان ہے۔ وہ اگرچہ انھیں پاکستان کی کارستانی قرار دیتا ہے مگر اسکا یہ منجن کوئی نہیں خریدتا اور مذکورہ ممالک نے اسکی درخواستوں کو رد کرکے سکھوں کو خالصتان کے لئے پُرامن سیاسی سرگرمیاں کرنے کی پوری اجازت دے رکھی ہے۔
ہندو فسطائی مودی حکومت نے بیرون ممالک سکھ اور کشمیری حریت پسندوں کو قتل کرنے کے لئے ایک بڑے بجٹ کے ساتھ اپنی خفیہ ایجنسی "را” کے اندر باقاعدہ ایک سیل بنارکھا ہے۔ اس سیل نے آزاد کشمیر و پاکستان میں قریبا 25 کشمیریوں کے علاوہ کنیڈا اور دیگر ممالک میں کئی سکھوں کو قتل کیا۔
امریکہ اور کینیڈا کے بعض اخبارات نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ کینیڈین پولیس اور خفیہ ایجنسیز نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ پردیپ سنگھ کو "را” نے لارنس بشنوئی گینگ کے ذریعہ قتل کیا اور یہ کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ خود ان آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں۔ لارنس بشنوی بی جے پی کا پروردہ ایک بڑا مجرم و گینگسٹر ہے جسکو بطور خاص امیت شاہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ اسکے کئی سنگین جرائم بے نقاب ہونے کے بعد اسکو عدالتی حکم کی آڑ میں قید کے نام پر محفوظ نگرانی میں رکھا گیا ہے اور بھارتی اخبارات کے مطابق وہ نہ صرف نام نہاد قید کے اندر اپنی مجرمانہ سرگرمیاں انجام دیتا ہے بلکہ اسکو ایک وزیر جتنی سہولیات بھی میسر ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ دنیا کے کئی اداروں اور تحقیقی تنظیموں خصوصاً فریڈم ہاؤس نے بھارت کو ان ممالک کے زمرے میں شامل کیا ہے جن پر اپنے مخالفین، ناقدین یا آزادی و علیحدگی پسند کارکنوں کو بیرونِ ملک نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔
فریڈم ہاؤس نے 2024 میں کینیڈین حکومت اور رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس (RCMP) کی ناقابلِ تردید رپورٹس کے بعد بھارت کو "Transnational Repression” یا "عالمی شکاری ریاستوں” کی فہرست میں شامل کیا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ انصاف (U.S. Department of Justice) نے نیویارک میں گر پتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ایک بھارتی باشندے پر فرد جرم عائد کی۔ جبکہ بعد میں امریکی حکام نے ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس اہلکار پر بھی الزام عائد کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، یوروپین پارلیمنٹ اور جی سیون نے بھی "Transnational Repression” کو ایک عالمی مسئلہ قرار دیا ہے اور اس کے خلاف مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کردہ مذکورہ رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں بھارت کے ان اقدامات کو محض سفارتی تنازعہ یا دو ممالک کے درمیان اختلاف قرار نہیں دیا گیا بلکہ انہیں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں ان واقعات کو بھارت کی وسیع تر پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے جس کے ذریعے بیرون ملک موجود ناقدین اور علیحدگی پسند تحریکوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جرمنی سمیت مختلف یورپی ممالک میں کشمیری، سکھ اور تامل برادریوں کی نگرانی کے لیے منظم نیٹ ورکس قائم کیے گئے۔ یہ دعویٰ نہایت تشویشناک ہے کیونکہ کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے دوسرے ممالک میں مقیم افراد کی سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے خفیہ طریقے اختیار، یہاں تک کہ قتل کرنا بین الاقوامی اصولوں سے متصادم ہے۔ اگر ایک ریاست اپنے مخالفین و ناقدین کو اپنی سرحدوں سے باہر بھی محفوظ نہ رہنے دے تو اس سے عالمی سطح پر عدم اعتماد اور خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے اور بین الاقوامی فورمز پر جمہوری اقدار، آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویدار بھی بنتا ہے۔ تاہم ایسی رپورٹس اس کے دعووں اور عملی اقدامات کے درمیان موجود تضاد کو نمایاں کرتی ہیں۔ ایک حقیقی جمہوریت کی طاقت اپنے مخالفین کو دبانے میں نہیں بلکہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے اور مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی ملک کے اندر یا بیرون ملک موجود افراد ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں تو ان کا جواب خفیہ طور پر قتل، نگرانی اور دھمکیوں کی صورت میں نہیں بلکہ سیاسی اور قانونی ذرائع سے دیا جانا چاہیے۔
یہ رپورٹ ایک اور اہم پہلو بھی اجاگر کرتی ہے کہ بھارتی خفیہ اداروں اور سفارتی مشنز کے درمیان تعاون کے ذریعے بعض ممالک میں پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ یہ نہ صرف سفارتی آداب بلکہ ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور قوانین کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی جانب سے دوسرے ملک کی سرزمین پر خفیہ سرگرمیوں کا پھیلاؤ عالمی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
رپورٹ میں جرمنی کا حوالہ خاص طور پر اہم ہے جہاں عدالتوں نے بھارتی خفیہ اداروں سے وابستہ بعض افراد کے خلاف فیصلے دیے اور قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں۔ یہ پہلو اس لیے قابل توجہ ہے کیونکہ مغربی ممالک عمومی طور پر کسی دوسرے ملک کے خلاف بغیر شواہد کے اس نوعیت کے اقدامات نہیں کرتے۔ جرمن حکام کی کارروائیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یورپی ممالک اب ان سرگرمیوں کو محض الزامات کے طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔
اس رپورٹ کا ایک اور نمایاں پہلو اقوام متحدہ کے سابق خصوصی نمائندے فرنانڈو دی ویرینس کا بیان ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت عالمی عدم استحکام اور تشدد کے بڑے ذرائع میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ کسی سیاسی مخالف یا علاقائی حریف کی جانب سے نہیں بلکہ انسانی حقوق کے ایک بین الاقوامی ماہر کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ ان کی جانب سے آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ اب محض سیاسی بیانیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی اداروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا رہا ہے۔
جنوبی ایشیا پہلے ہی کئی تنازعات، سرحدی کشیدگیوں اور سیاسی عدم استحکام کا شکار خطہ ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کسی ریاست پر سرحد پار خفیہ کارروائیوں، نگرانی اور مخالف آوازوں کو دبانے کے الزامات لگیں تو اس سے علاقائی امن مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ بھارت ایک بڑی آبادی، وسیع معیشت اور بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا حامل ملک ہے، اس لیے اس سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کی توقع بھی زیادہ کی جاتی ہے۔ ایک بڑی طاقت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رویے سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرے، نہ کہ ایسے اقدامات جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنیں۔
یہ ایک تشویشناک اور خطرناک پہلو ہے بھارت اور اسرائیل جیسے ملکوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی آڑ لے رکھی ہے جو جارحیت اور انسانیت کے خلاف جرائم میں پورے عالم میں بدنام ہیں۔
بین الاقوامی قانون واضح طور پر یہ فرق کرتا ہے کہ سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ، لیکن ان کی آڑ میں ماورائے عدالت اقدامات، نگرانی، دھمکیوں یا بیرون ملک خفیہ آپریشنز کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی عالمی فیکٹ فائنڈنگ مشن کے قیام اور ذمہ دار عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ نہ صرف سکھ برادری بلکہ ان تمام گروہوں کے لیے اہم ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سیاسی یا نظریاتی سرگرمیوں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر واقعی ایسے شواہد موجود ہیں تو شفاف اور آزاد تحقیقات کے ذریعے حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عالمی برادری قیاس آرائیوں کے بجائے مستند معلومات کی بنیاد پر فیصلے کر سکے۔
مجموعی طور پر جنیوا میں پیش کی جانے والی یہ رپورٹ بھارت کے لیے ایک سنجیدہ سفارتی اور اخلاقی چیلنج ہے۔ دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں انسانی حقوق، سیاسی آزادی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو ریاستوں کی ساکھ جانچنے کا بنیادی معیار سمجھا جاتا ہے۔ اگر بھارت واقعی خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو اسے ان الزامات کا شفاف جواب دینا ہوگا، آزاد تحقیقات میں تعاون کرنا ہوگا اور ایسے تمام اقدامات سے اجتناب کرنا ہوگا جو اسے عالمی عدم استحکام، سیاسی جبر اور سرحد پار مداخلت کی علامت کے طور پر پیش کریں۔ بصورت دیگر اس کی جمہوری ساکھ، سفارتی اعتبار اور عالمی قیادت کے دعوے مزید سوالات کی زد میں آئیں گے۔






