فوجی طاقت سے کشمیریوں کے جائز مطالبے کو دبایا نہیں جا سکتا: حریت کانفرنس
5 اگست”یوم استحصال کشمیر“کویوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل کا اعادہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ سات سال سے جاری بھارت کا فوجی محاصرہ، وحشیانہ مظالم اور مذموم سازشیں حق خودارادیت کے کشمیریوں کے جائز مطالبے کو دبانے میں ناکام رہی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیریوں کی بے مثال استقامت، عزم اور بہادری نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ان کا جذبہ آزادی ناقابل تسخیر ہے۔ انہوں نے5 اگست کویوم سیاہ اور مکمل ہڑتال اور پوری دنیا میں احتجاجی ریلیوں کی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت اور عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ کشمیری غلامی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اپنے حق خود ارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔کئی دیگر حریت پسندجماعتوں نے بھی کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے غیر آئینی اقدامات کی مذمت کے لیے 5 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔حریت ترجمان نے اتحاد کو کامیابی کی کنجی قرار دیتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ بھارت کے مذموم عزائم اور استعماری پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ اتحاد واتفاق پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے اور اس کے کشمیریوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ دفعہ370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اس کے باشندوں کے لیے ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میںآبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور اس کے مسلم اکثریتی تشخص کو کمزور کرنے کے لیے علاقے میں لاکھوں غیر ریاستی ہندوو¿ں کو ڈومیسائل دیے گئے ہیں،انہیں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں آباد کیا جا رہا ہے اوراس مقصد کے لئے اراضی قوانین میں ترمیم کی گئی ہے۔ حریت کانفرنس نے پونچھ کے علاقے سیالان کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ شہداءکے اہل خانہ 25 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں۔ بھارتی فوجیوںنے 3 اور 4 اگست 1998 کی درمیانی شب ضلع پونچھ میں سرنکوٹ کے علاقے سیالان میں میجر گل کے نام سے معروف شہید امتیاز احمد شیخ کے خاندان کے 19 افراد کو شہید کیاتھا۔شہید ہونے والوں میں لسہ شیخ، احمد دین شیخ اور حسن محمد کے خاندانوں کے مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔




