جموں وکشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کے لیے بھارتی حکام ذمہ دارہیں: فاروق عبداللہ
یہ نئی دہلی کے احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لئے اندرونی کارستانی ہوسکتی ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کولگام اور اسلام آباد اضلاع میں حالیہ ہلاکتوں کے لیے بھارتی حکام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لئے دہلی میں ہونے والے احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ اندرونی کارستانی ہوسکتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے بجبہاڑہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جموں وکشمیر میں حالات معمول پر لانے کے بھارتی حکومت کے دعوﺅں پر سوال اٹھاتے ہوئے علاقے کی ریاستی حیثیت کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ اگر نئی دہلی کے دعوے کے مطابق سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ حملہ آور کہاں سے آئے ہیں۔انہوں نے کولگام میں دو غیر مقامی مزدوروں اور اسلام آباد میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کی شناخت کو ظاہر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد عسکریت پسندی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے لیکن وہ ایسے واقعات کو نامعلوم حملہ آوروں سے منسوب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر عسکریت پسندی ختم ہو گئی ہے، تو لوگوں اور دنیا کو بتائیں کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے کون ہے۔ فاروق عبداللہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔اس سے قبل فاروق عبداللہ نے ان واقعات کے وقت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہاتھا کہ یہ واقعات مقبوضہ علاقے میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے بعدپیش آئے ہیں۔







