بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجھ پن بجلی منصوبے پر کام تیز کر دیا

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارت نے جموں میں اجھ کے کثیر المقاصد منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی لائی ہے اوربھارتی وزیر جتیندر سنگھ نے اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جوڑتے ہوئے اسے تزویراتی طور پر اہم قرار دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر نے منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر سے دریائے راوی اور اس کی معاون ندیوں کا پانی پاکستان جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اب معطل ہے، بھارتی حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اس پروجیکٹ کو مرحلہ وار انجام دیا جائے گا، اس سے 212 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے، تقریباً 90,000 ہیکٹر اراضی سیراب ہونے اورضلع کٹھوعہ کو پینے کا پانی فراہم ہونے کی امید ہے۔سیاسی اور آبی امورکے ماہرین کاکہنا ہے کہ مغربی دریا کے نظام سے منسلک منصوبوں پر بھارتی حکومت کا نئے سرے سے زور اورسندھ طاس معاہدے کے التواءکا حوالہ علاقائی آبی تحفظ اورمعاہدے کے مستقبل پر خدشات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدکے آرپاردریاوں کو متاثر کرنے والے یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اورفریقین کوبین الاقوامی ذمہ داریوں اور قائم کردہ قانونی فریم ورک سے باہر نہیں جانا چاہیے۔






