سرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش پر کاروباری ، سیاحتی شعبوں کااظہار تشویش

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مجوزہ 15 روزہ بندش نے سیاحتی شعبے اورٹریول ایجنسیوں سمیت کاروباری طبقے میں تشویش پیداکردی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو رن وے کی مرمت کے نام پر یکم اکتوبر سے 16 اکتوبر تک مکمل طور پر 16 روزکے لئے بند رکھنے کے اعلان نے تشویش اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔جولائی سے ہوائی اڈے کا آپریشن ہر ہفتے دو دن کے لیے بند رہے گا اور یکم اکتوبر سے16 اکتوبر تک مکمل بند رہے گا۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے6 اپریل کوطیاروں کی نقل و حرکت کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک محدود کرنے کے بعد پروازوںکی آمدورفت پہلے متاثر ہوئی ہے۔ روزانہ فلائٹ آپریشن تقریباً 25سے30 پروازوں سے کم ہو کر تقریباً 18 رہ گئی ہے۔رن وے کی مرمت کے لیے اکتوبر میں سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مجوزہ 15 روزہ بندش نے سیاحت، ٹریول ایجنسیوں اور کاروباری طبقے میں تشویش کو جنم دیا ہے جنہیں خدشہ ہے کہ اس اقدام سے کشمیر کے مصروف ترین سیاحتی سیزن میں خلل پڑ سکتا ہے اور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو ابھی بحال ہو رہی ہے۔خدشہ ہے کہ دو ہفتوںکی بندش سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے سیاحتی شعبے کوشدید دھچکہ لگے گا۔ہوائی اڈے پرجاری کام نے پہلے ہی پروازوں کی آمدورفت کو کافی حد تک کم کردیا ہے اور فی الحال پروازیں صرف صبح 8 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان چلتی ہیں جوپہلے صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک چلتی تھیں۔کاروباری طبقے کو خدشہ ہے کہ ہوائی اڈے کی بندش سے وادی کشمیر میں سیاحت پر منحصر ہوٹلوں، ٹور آپریٹرز، ٹرانسپورٹرز اور دیگر کاروباروں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو سکتا ہے۔سرینگر کے ایک ہوٹل مالک آصف برزہ نے کہا اگرچہ ہوائی اڈے کی اپ گریڈیشن ضروری ہے، حکام کو مسافروں اور کاروباروں کو کم سے کم متاثرکرنے کے طریقے تلاش کرنے چاہیے۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر جاوید احمد ٹینگا نے کہا کہ حکومت کو مقامی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو محدود کرنے کے لیے متبادل انتظامات پر غور کرنا چاہیے۔اگر بندش ناگزیر ہے تو ریلوے سروسز کو بڑھایا جانا چاہئے اور رابطے کو برقرار رکھنے کے لئے دہلی اور دوسرے بڑے شہروں سے اضافی ٹرینیں شروع کی جانی چاہئے۔ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر نے اس فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیڈول کو حتمی شکل دینے سے قبل سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی۔






