مقبوضہ جموں و کشمیر

حریت تنظیموں کی سیبوں سے لدے ٹرکوں کے لیے ہائی وے کو جان بوجھ کر بندرکھنے کی مذمت

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں حریت پسند تنظیموں نے سرینگر جموں ہائی وے کو سیبوں سے لدے ٹرکوں کے لیے جان بوجھ کربند رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وادی کے باغبانی کے شعبے اور ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی پر حملہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ، پیپلز لیگ، مسلم یوتھ فورم، جموں کشمیر پیپلز ریزسٹنس پارٹی، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک موومنٹ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں جاری اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ جموں وکشمیر کو باقی دنیا سے ملانے والے واحد زمینی راستے پر ٹرکوں کی آمد و رفت میں طویل رکاوٹ کوئی حادثہ نہیں بلکہ کشمیری معیشت کو تباہ کرنے کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پھلوں کو لے جانے والی سینکڑوں گاڑیاں کئی دنوں تک سڑک پرپھنسی رہیں جس سے کاشتکاروں اور تاجروں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہواہے۔حریت تنظیموں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لیفٹننٹ گورنر کی زیرقیادت کٹھ پتلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ کسانوں کو درپیش مسائل کے حوالے بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ بیانات میں کہا گیا ہے کہ قابض انتظامیہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ ان کے پھل سڑک پر سڑ رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ سڑک کی بندش سے نہ صرف ریاست کی تجارت متاثر ہوئی ہے بلکہ سیب کی کاشت پر انحصار کرنے والے دسیوں ہزار خاندانوں کو نفسیاتی اور مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سڑک کو فوری طورپر بحال نہ کیاگیا اورٹرکوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ریاست کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کشمیر کی معیشت کا گلاگھونٹنے کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کراتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور تجارتی تنظیموں پر زور دیا گیا کہ وہ اس بحران کا نوٹس لیں۔ حریت تنظیموں نے کاشتکاروں اور تاجروں کے لیے فوری معاوضے کا مطالبہ کیا جو پہلے ہی نقصانات اٹھاچکے ہیں۔پھلوں کے کاشتکاروں اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ یہ بندش امتیازی سلوک اور دانستہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی باغبانی کی صنعت کو نقصان پہنچانا ہے جو ریاستی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button