جاپان نے بھارتی آم کی درآمدات معطل کردیں

نئی دہلی:جاپان نے بھارت کے برآمدات کو ایک بڑا دھچکہ دیتے ہوئے2026 کے پورے سیزن کے لیے بھارتی آم کی درآمدات کو معطل کر دیا ہے جو تقریباً 20 سالوں میں پہلی بار اس طرح کی پابندی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جاپانی حکام نے اتر پردیش کے علاقے رحمن پورمیں قائم ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ کے کارخانے میں کیڑے مکوڑوں اورجراٹیم کے خاتمے، انفیکشن کو روکنے اور دستاویزات میں حیران کن کوتاہیوں کا حوالہ دیا۔25 مارچ 2026 کے بعد جاری کردہ سرٹیفکیٹس کے ساتھ الفونسو، کیسر، لنگڑا، بنگناپلی اور چونسہ سمیت آم کی اہم اقسام کو مسترد کیا گیاہے۔مہاراشٹر، گجرات اور اتر پردیش میں برآمد کنندگان اور کسانوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بھارت کی زرعی برآمدات کو بیرون ملک مسلسل مسترد کیاجارہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق چین نے ملاوٹ کے خدشات پر 2026 میںبھارتی نان باسمتی چاول کے 70 سے زائد کھیپ مسترد کر دیے۔ شری رام فوڈ انڈسٹریز، سپون انٹرپرائزز اور این ایم فوڈمپیکس سمیت کئی کمپنیوں کے لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ سنگاپور، ہانگ کانگ، مالدیپ اور نیپال نے کینسر پیدا کرنے والے ایتھیلین آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی سطح پر ایم ڈی ایچ اور ایورسٹ مصالحوں پر پابندی لگا دی ہے جبکہ سعودی عرب اور یورپی یونین نے کیڑے مار ادویات کی باقیات اور افلاٹوکسن کی آلودگی کی وجہ سے بھارتی درآمدات کو مسترد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارت کے دواسازی کے شعبے کو بھی سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ کھانسی کی آلودہ بھارتی شربت کو گیمبیا میں تقریباً 70 بچوں اور ازبکستان میں 18سے20 بچوں کی موت سے جوڑا گیا ہے جس کے باعث امریکی ایف ڈی اے کو بار بار درآمدی انتباہات جاری کرنے اور جی ایم پی کی خلاف ورزیوں پر پلانٹ پر پابندی عائد کرنے کا اشارہ مل رہا ہے ۔ گیمبیا اب درآمد سے پہلے تمام بھارتی ادویات کی جانچ کررہا ہے۔مالی سال 2025 میں 4.5ارب ڈالرکے مصالحہ جات، 30ارب ڈالرکی ادویات اور 51سے52ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات برآمد کرنے کے دعوﺅں کے باوجودبرآمدات بار بار مسترد ہونے اور ضوابط کی خلاف ورزیاں بھارت کی بین الاقوامی ساکھ اور مارکیٹ تک رسائی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔






