اقوام متحدہ نے کشمیر اور فلسطین کو حل طلب تنازعات قرار دے دیا

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے 2025 جمعہ کو جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی جس میں تنازعہ جموں و کشمیر اور مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر دیرینہ حل طلب مسائل قراردیاگیا جن کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی امن وسلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران بھارت اورپاکستان سے متعلق 20 سے زائد مراسلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے لائے گئے اور کونسل نے مئی 2025 میں اس مسئلے پر بندکمرے میں مشاورت کی۔رپورٹ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ کی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مصروفیات کو بھی شامل کیا گیا جس میں غزہ امن منصوبے کے بارے میںقرارداد نمبر2803کی منظوری بھی شامل ہے۔ پاکستان نے جس نے جولائی 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران رپورٹ کا مسودہ تیار کیا تھا، دونوں تنازعات کے حوالہ جات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ان تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں جموں و کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں بین الاقوامی قانون اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازعہ جموںوکشمیر جو کونسل کے ایجنڈے پر سات دہائیوں سے موجود ہے، مسلسل اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ عاصم افتخار نے پاکستان کے موقف کو دہرایا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت ہے۔سالانہ رپورٹ میںجنوری سے دسمبر 2025 تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کام کا جائزہ پیش کیاگیا ہے اور افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ کے تنازعات اور بحرانوں کے ساتھ ساتھ ان کے پرامن حل کے لئے کوششوں کو اجاگرکیاگیا ہے۔







