مساجد اور درگاہوں کی مسماری پر مذہبی قیادت کی خاموشی تشویشناک ہے، مفتی مدثر احمد قادری
سرینگر:
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل کے سربراہ مولانا مفتی مدثر احمد قادری نے بھارت بھر میں مساجد، مزارات اور درگاہوں کی مسماری پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال پر مذہبی قیادت کی خاموشی انتہائی افسوسناک اور لمح فکریہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسرو س کے مطابق مفتی مدثر احمد قادری نے ایک بیان میں سرکاری تجاوزات اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر عبادت گاہوں کو مسمار کیے جانے کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں مختلف ریاستوں میں مساجد اور درگاہوں کو منہدم کیے جانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جس سے اقلیتی برادری خصوصا مسلمانوں میں سخت بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی اور سیاسی قیادت کو ایسے معاملات پر واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عبادت گاہوں کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہو تو خاموشی اختیار کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔مولانا مفتی مدثر احمد قادری نے کہا کہ عوامی اور مذہبی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں کی مسماری کے حوالے سے تمام قانونی اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ املاک اور اراضی سے متعلق تنازعات کو قانون کے مطابق حل کیا جائے اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کیا جائے۔مفتی مدثر احمد قادری نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے پرامن اور قانونی طریقے سے اپنی آواز بلند کریں اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔






