بھارت: زیر سماعت مقدمے میں گزشتہ 17 سال سے قید مسلمان شخص جیل میں انتقال کرگیا

بنگلورو: بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک زیر سماعت مقدمے کے سلسلے میں گزشتہ 17سال سے قیدایک 62 سالہ مسلمان شخص عبدالقادر جیل میں انتقال کرگئے جس نے بھارتی جیلوں میں طویل قید، انصاف میں تاخیر اور طبی غفلت پر نئے سوالات کھڑے کردیے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرناٹک کے ضلع کوڈاگو کے رہائشی عبدالقادر کو 2008 کے بنگلورو دھماکوں کے کیس میں 31 ویں ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گرفتاری کے بعد سے سلاخوں کے پیچھے تھا۔ پراپنا اگرہارا سنٹرل جیل میں ان کی موت اس وقت ہوئی جب ٹرائل عدالت طویل عرصے سے زیر التوا کیس میں اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔عبدالقادر کے وکیل ایڈووکیٹ رحمٰن اریکور نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو چار ماہ کے اندر اپنا فیصلہ سنانے کی ہدایت کی ہے جس کی ڈیڈ لائن 16 جولائی مقرر ہے۔وکیل نے کہا کہ عبدالقادر کئی سالوں سے ذیابیطس اور صحت کی کئی پیچیدگیوں کا شکارتھے اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود طبی ضمانت اور مناسب علاج کی بار بار کی درخواستوں کو نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جیل کے ایک ڈاکٹر نے عبدالقادر کی موت سے ایک دن قبل تحریری وارننگ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قیدی کی حالت تشویشناک ہے اور اسے فوری خصوصی طبی امداد کی ضرورت ہے۔ تاہم ا نہیں بروقت ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔عبدالقادر حالیہ مہینوں میں بگڑتے ہوئے صحت کے مسائل کی وجہ سے وہیل چیئرپر چل رہے تھے۔اس واقعے نے انسانی حقوق کے کارکنوں میں زیر سماعت قیدیوں کی طویل نظربندی، عدالتی کارروائیوں میں تاخیر اور بھارتی جیلوں میں صحت کی ناکافی سہولیات کے حوالے سے تشویش بڑھادی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کے فیصلے سے قبل عبدالقادر کی موت نے انصاف تک رسائی اور سنگین بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کے علاج کے حوالے سے سنگین سوالات کھ©ڑے کردیے۔2008 کے بنگلورو سلسلہ وار بم دھماکوں کا مقدمہ تقریباً 17 سال سے زیر التوا ہے جس میں کئی ملزمان نے طویل عرصہ قید میں گزارا اوروہ حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔







