سول سوسائٹی ارکان کاکشمیری رہنماوں، کارکنوں اور نوجوانوں کی مسلسل نظر بندی پراظہار تشویش

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں بندکشمیری حریت رہنماو ں، کارکنوں اور نوجوانوں کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی پر شدید تشویش کااظہارکیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ بھارتی حکومت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اس کی انتظامیہ کشمیری حریت رہنماو¿ں اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کی غیر قانونی نظربندی کو طول دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت اپنی متعصب عدلیہ اور تحقیقاتی ادارے این آئی اے کو آزادی پسند کشمیریوں اور ان کی قیادت کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر کی ریلیوں اور امن کے نعروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز ہر کشمیری کو بندوق کی نوک پر خاموش کررہی ہیں اور وہ کالے قوانین کے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان قوانین کے تحت بھارتی فوج اور پولیس کو متنازعہ علاقے میں کسی بھی کشمیری کو گرفتار،ہراساں اور قتل کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جیلوں میں بند حریت رہنماو¿ں اور دیگر کشمیری نظربندوں کے خلاف بھارت کی عدالتی دہشت گردی کا نوٹس لیں ۔کشمیری نظربندوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، ایڈووکیٹ شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، مشتاق الاسلام ،ڈاکٹر حمید فیاض،ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم ، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویزاور دیگر شامل ہیں۔







