مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر:سیب کے کاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا، معاوضے کا مطالبہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںاچانک ژالہ باری سے باغات تباہ ہونے کے باعث سیب کے کاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ژالہ باری نے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں تباہی مچائی اور کم از کم 32 دیہاتوں میں پھیلے ہوئے باغات کو نقصان پہنچا۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سال بھر کی محنت چند منٹوں میں ضائع ہوگئی۔ نہامہ گاو¿ں کے متاثرین نے بتایا کہ اچانک شدید ژالہ باری شروع ہوئی جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔مقامی کاشتکاروں نے بتایا کہ ان کے باغات، تباہ ہو گئے کیونکہ درختوں پر کھلنے والے تمام پھول زمین پر گر گئے ہیںجس سے پھلوں کی پیداوار میں بھاری کمی ہوگی۔ ایک کاشتکارنے بتایا کہ اس نے حال ہی میں اپنے باغ کا معائنہ کیا تھا اور وہ اچھی فصل کی توقع کر رہے تھے لیکن ژالہ باری نے ان کی امیدوں کو چکنا چور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تباہی کو دیکھنے کے باوجود وہ فصل کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔ کاشتکاروں نے بتایا کہ بہت سے لوگوں نے کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت قرض لیا تھا اور کھادوں، کیڑے مار ادویات اور دیگر چیزوں میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ برسوں میں بار بار موسم کے باعث نقصانات نے انہیں مالی پریشانی میں دھکیل دیا ہے جس سے قرضوں کی ادائیگی اور روزی روٹی کمانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کولگام کے علاقے نہامہ، لائسو، گوڈر، منزگام، وٹو، باتی پورہ اور لکڑ پورہ کے علاوہ شوپیان کے علاقے کیلر، بلپورہ، شرمال، امشی پورہ اور سیدو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پھلوں کے کاشتکاروں کی انجمنوں نے خبردار کیا کہ خاطر خواہ مالی امداد اور معاوضے کے بغیر کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کاشتکاروں نے باغات کو موسم کے باعث بار بارہونے والے نقصانات سے بچانے کے لیے فوری معاوضے، قرضوں کی معافی اور طویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button