پیپر لیک کا بڑھتا ہوا معاملہ، بھارت نے ٹیلی گرام پر پابندی لگادی

نئی دلی: بھارت میں نیٹ 2026 کے دوبارہ انتخانات سے قبل دھوکہ دہی کے نیٹ ورک کو روکنے کے لیے بھارتی حکومت نے ٹیلی گرام پلیٹ فارم تک عارضی رسائی محدود کر دی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے کہا کہ یہ فیصلہ طلبہ کو جعلی معلومات اور فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہدایت جاری کی ہے کہ ٹیلی گرام کی رسائی بھارت میں 22 جون تک محدود رہے گی، تاکہ امتحانی عمل کے دوران اور اس کے بعد کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی، افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ نیٹ امتحانات 21 جون کو دوبارہ لیے جائیں گے۔
حکومت نے ٹیلی گرام کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 جون تک بھارت میں میسج ایڈیٹنگ فیچر بھی معطل رکھے تاکہ پرانے پیغامات میں تبدیلی کر کے جعلی ’پیپر لیک‘ کے شواہد بنانے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
این ٹی اے کا کہنا ہے کہ بعض منظم گروہ ٹیلی گرام کے ذریعے امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنا رہے تھے اور امتحانی پرچے تک رسائی کے جھوٹے دعووں کے بدلے رقوم طلب کر رہے تھے۔ ادارے نے ان سرگرمیوں کو مکمل طور پر فراڈ قرار دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ اس فیصلے سے عام صارفین کو عارضی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم یہ اقدامات امتحانی شفافیت اور نظام کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہیں.





