بھارت

ششی تھرور کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معمول کے مطابق ہونے کے بیان پر تنقید کا سامنا

سرینگر: انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما اوبھارتی ر رکن پارلیمنٹ ششی تھرورکے غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے حالیہ دورے کے بعد مقبوضہ علاقے کی صورتحال کو معمول کے مطابق قراردینے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ششی تھرور نے جو بھارتی پارلیمنٹ کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ ہیں، جموں و کشمیر اور لداخ کے دورے پر ہے۔انہوں نے سرینگر میں مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے بعد جموں وکشمیر کی "صورتحال کومعمول کے مطابق "قراردیا تھا جس پر انہیں سیاسی حلقوں خصوصا اپنی ہی پارٹی کے رہنمائوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ششی تھرور کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ انہیں زمینی حقائق جاننے کے لیے عام کشمیریوں سے بھی ملاقات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کوبھی توقع تھی کہ وہ ان سے ملاقات کرکے حالات کا بہتر اندازہ لگائیں گے۔رویندر شرما نے کہا کہ کم از کم انہیں اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں سے ملاقات کے لیے وقت نکالنا چاہیے تھا جو گزشتہ سات برسوں سے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔معروف بھارتی دفاعی و سیاسی تجزیہ کار پروین ساہنی نے بھی ششی تھرور کو تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو سمجھنا ہے تو سول سوسائٹی سے بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ حال ہی میں وادی کشمیر سے واپس آئے ہیں اور زمینی حالات سے مکمل طورپر آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے صرف سرکاری حکام سے ملاقات کافی نہیں اورششی تھرور کو عام کشمیریوں کی خدمت کے معاملے میں راہل گاندھی سے سبق لینا چاہیے۔اسٹوڈنٹ لیڈڑ ناصر کھوہامی نے بھی ششی تھرور کے دورے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر صرف علامتی دوروں اور پہلے سے طے شدہ ملاقاتوں سے زیادہ کا مستحق ہے۔ ان کے مطابق ششی تھرو رجیسے رکن پارلیمنٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے بھی بامعنی گفتگو کرے جن کی آوازیں مسلسل نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button