بھارت

بھارت میں مسلمانوں سے منسوب اداروں کے نام تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری

بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور

بھوپال: بھارت میں مسلمانوں سے منسوب اداروں اورمقامات کے نام تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، تازہ ترین واقعے میںبھوپال میں معروف مجاہدین آزادی کے نام سے منسوب برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے متفقہ طور پرقرارداد منظورکی کہ ادارے کاتام تبدیل کرکے” مَا وِگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی“رکھا جائے ۔ اس تجویز کو اب حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن کے لیے مدھیہ پردیش حکومت کو بھیجا جائے گا۔یونیورسٹی کے رجسٹرار ثمر بہادر سنگھ نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کونسل نے رواں ہفتے ایک میٹنگ کے دوران تجویز منظور کی ہے اور ریاستی انتظامیہ کو ایک رسمی خط بھیجا جائے گا۔ اس اقدام نے مولانا برکت اللہ بھوپالی کے بارے میں عوامی دلچسپی کو بڑھادیا ہے جو ایک مجاہد آزادی تھے جن کے نام پر 1988 میں یونیورسٹی کا نام رکھا گیا تھا۔مولانا برکت اللہ1854 میں بھوپال میں پیدا ہوئے، وہ ایک ممتاز انقلابی تھے اور پہلی جنگ عظیم کے دوران دسمبر 1915 میں کابل میں قائم کی گئی بھارت کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے جاپان، امریکہ، جرمنی، افغانستان اور سوویت روس کا سفر کیا، بھارت کی آزادی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مہم چلائی اور بولشیوک ریزولوشن کے بعد ولادیمیر لینن سے ملاقات کی۔ماہرین تعلیم، طلباءاور مورخین نے سوا ل اٹھایا ہے کہ کیا ادارے کا نام تبدیل کرنے سے ایک ایسے مجاہد آزادی کی پہچان ختم ہوجائے گی جس کا نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مجاہدین آزادی کے ناموں سے منسوب ادارے تحریک آزادی کے دوران دی گئی قربانیوں کی یاددہانی کراتے ہیں اور ان ناموں کو برقرار رکھنا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button