بھارت کشمیری خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہا ہے
دنیا ستم رسیدہ خواتین کی حالت زار کا نوٹس لے، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں کشمیر شاخ نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین بھارتی فورسز کے ظلم و ستم کا بڑے پیمانے پر شکار ہیں اور قابض فوج کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کیلئے انکی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماﺅں شمیم شال ، سید اعجاز رحمانی اور زاہد اشرف نے اسلام آباد سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ 23مارچ کو دنیا میں بیواﺅںکا عالمی دن منایا گیا ، ایسے میں پوری عالمی برادری کیلئے یہ چشم کشا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میںجنوری 1989 سے اب تک 22ہزار 9سو91 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جن کے شوہروں کو بھارتی فورسز اہلکارںنے شہید کیاہے۔انہوںنے کہا کہ اسکے علاوہ علاقے میں 3ہزار سے زائد نیم بیوائیں موجود ہیں جن کے شوہروںکو بھارتی فوجیوںنے حراست میںلینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ بھارتی قبضے میں کشمیری خواتین مسلسل خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ہزاروں کشمیری خواتین اپنے شوہروں، بھائیوں اور بیٹوںکو کھو چکی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ دنیا کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی ستم رسیدہ خواتین کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہیے اور انکے تحفظ و حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔
حریت آزاد جموںوکشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے کہا کہ کشمیری صرف اور صرف اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی پاداش میں بھارت انہیں تختہ مشق بنا رہا ہے۔ انہوںنے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی طرف انسانیت کے خلاف جاری سنگین جرائم کا نوٹس لے اور کشمیریوںکو اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق انکا حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کرے۔







