شہید بابری مسجد کی جگہ تعمیر کئے گئے رام مندر کے چندے میں 200کروڑ روپے کی خردبرد
اپوزیشن جماعتوں کی تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے
نئی دلی: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں شہید بابری مسجد کے مقام پر تعمیر کئے جانیوالے متنازعہ رام مندر کے چندے میں 200کروڑ روپے کی خردبرد کے الزامات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 6دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو شہید کردیاتھا۔ مغل دور کی یہ تاریخی مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے دور میں 1528 میں تعمیر کی گئی تھی۔بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے رام مندر کے چندے میں خرد برد کے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے عوامی عقیدت سے کھیلواڑ کے مترادف قرار دیا ہے۔بھارتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق بعض سیاسی رہنمائوں نے دعوی کیا ہے کہ رام مندر میں جمع ہونے والے چندے اور نذرانوں کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور 200کروڑ روپے تک کی رقم خردبرد کی گئی ہے۔ تاہم مندر انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات کاکوئی جواب نہیں دیاگیاہے ۔اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کی ہے، جس نے ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے چندے کے ریکارڈ، رقم گننے کے نظام اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں، خصوصا کانگریس اور دیگر رہنمائوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کسی ہائیکورٹ کے جج کی نگرانی میں کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ہزاروں عقیدت مند روزانہ رام مندرمیں بڑی مقدار میں نقد رقم، سونا، چاندی اور دیگر نذرانے پیش کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہرایودھیا میں انتہا پسند ہندوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔بابری مسجد کی شہادت کے بعدفسادات کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔2009میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنمائوں سمیت 68 لوگوں کو موردالزام ٹھہرایا گیا،بابری مسجدکی شہادت کا منصوبہ بی جے پی،راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشاد نے 10ماہ پہلے بنایاتھا۔9 نومبر 2019کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمان کو بری کر تے ہوئے بابری مسجد کی زمین رام مندرکی تعمیر کیلئے ہندو فریق کے حوالے کر دی تھی۔






