آپریشن سندور میں ہلاکتوں کا بھارتی اعتراف پاکستان کے دیرینہ موقف کی تصدیق ہے، مبصرین

نئی دہلی: بھارت نے مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ فوجی تصادم کے دوران مارے گئے چھ فوجی اہلکاروں کی شناخت بار باضابطہ طور پرپہلی بار ظاہر کردی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا بھارتی اعتراف دراصل پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق ہے جو اس نے تنازعہ کے دوران اپنا یا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی میڈیا نے بتایا کہ مرنے والوں میں بھارتی فوج کے 5 اہلکار اور بھارتی فضائیہ کا ایک سارجنٹ شامل ہے۔ ان میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار، اگنی ویر سیکم کے تحت بھرتی ہونے والے نایک موڈ مرلی ، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔ ان کے نام نئی دہلی میں قومی جنگی یادگار پر تیاگ چکرپر بھی کندہ کیے گئے ہیں۔
بی جے پی کی بھارتی حکومت نے تاحال آپریشن سندھور کے دوران ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی تاہم اب اس نے کچھ اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی اور ہلاکتوں کا سرکاری طورپر اعتراف کیا۔
مودی حکومت نے اپریل 2025 میںپہلگام فالس فلیگ آپریشن کیا اور حسب روایت اس آپریشن کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور بعد ازاں اسکی آڑ میں 6-7 مئی کی درمیانی شب پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں متعدد مقامات پر حملہ آور ہوئی ۔ بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیرمیں عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور خواتیں اور بچوں سمیت کئی شہری شہید کردیے۔
پاکستان نے بھارت کو پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کی بھی پیشکش کی لیکن وہ یہ پیشکش قبول کرنے کے بجائے روایتی ہٹ دھرمی سے کام لیتا رہا اور مملکت خداد اد کے خلاف رات کی تاریکی میں جارحیت کی۔
پاکستان نے بعدازاں آپریشن بنیان المرصوص کی صورت میں بھارت کو اسکی جارحیت کا منہ توڑ جوا ب دیا اور اسے بھاری فوجی نقصان پہنچایا، اسکے جدید ترین رافیل طیاروں سمیت کئی طیارے مار گرائے اور اہم فوجی تنصیبات کو شدیدنقصان پہنچا۔ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو ہونے والے اس بھارتی نقصان کی عالمی سطح پر تصدیق کی گئی لیکن بھارت نے سرکاری طور پر اپنے نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بارہا کہتے رہے کہ آپریشن کے دوران بھارت کا کوئی فوجی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لیکن فوجیوں کی ہلاکت کا یہ اعتراف پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی عبرتناک شکست کا ایک واضح ثبوت ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاخیر سے ہونے والے اس اعتراف نے بھارت کے کل فوجی نقصان کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بھارت کے اس محدود اعتراف نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان نے بھارتی ائر فورس کے کئی جہار مار گرائے، اسکا ایس 400ائر ڈیفنس سٹیم ناکارہ کردیا ، کنٹرول لائن پر بھارت کے کئی فوجی کیمپ اور ہیڈکوارٹر تباہ کیے لہذا بھارتی فوجیوں کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس محدود اعتراف کے بعد جنگ میں ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات کی فراہمی کے بھارتی حزب اختلاف کے مطالبے میں شدت آسکتی ہے۔ ۔





