بھارت

بھارت: چیف جسٹس سوریا کانت کو کنووکیشن میں نہ بلایا جائے: طلباءکا مطالبہ

حیدرآباد:بھارتی شہر حیدرآباد کی نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے فارغ التحصیل طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے چیف جسٹس سوریا کانت کو آئندہ کنووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کی تجویز پر نظرِ ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ طلبہ نے وائس چانسلر، رجسٹرار اور اساتذہ کو دی گئی درخواست میں کہا ہے کہ کنووکیشن میں بھی آئینی حقوق، انصاف اور شہری شکایات کو سنجیدگی سے لینے جیسے اصولوں کی اہمیت کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔واضح رہے کہ بھارتی طلبہ کا اعتراض سپریم کورٹ کی جانب سے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر نہ کیے جانے پر ہے۔طلبہ نے اپنی درخواست میں ان رپورٹس کا حوالہ دیا ہے جن کے مطابق 22 جولائی کو معاملہ فوری سماعت کے لیے پیش کیے جانے پر چیف جسٹس نے وکیل سے کہا تھا کہ ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔درخواست کے مطابق جب وکیل نے پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی ویڈیوز دکھانے کی پیشکش کی تو چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میں ویڈیوز دیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، میرے پاس وقت نہیں ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ احتجاج کی وجوہات بیان کر نے کے لئے وکیل کو بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔طلبہ نے درخواست میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس کو پہلے ہی ایک علیحدہ خط کے ذریعے درخواست دی گئی تھی جس میں پولیس کارروائی پر سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس کارروائی کے نتیجے میں 170 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔طلبہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست میں کہا ہے کہ نیشنل لاءیونیورسٹی میں دورانِ تعلیم ہمیں آئینی اقدار اور شہری حقوق کی اہمیت سکھائی گئی ہے، اس لیے ایسے موقع پر کسی ایسی شخصیت سے ڈگریاں وصول کرنا باعثِ تشویش ہے جس کا حالیہ طرزِ عمل پولیس تشدد کے سنگین الزامات کے حوالے سے مظاہرین کے مو¿قف کو نظر انداز کرنے والا محسوس ہوتا ہے۔طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے چیف جسٹس کو مہمانِ خصوصی بنانے کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنے اور اس سلسلے میںفارغ التحصیل طلبہ سے مشاورت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button