مضامین

شہیدِ عزیمت شیخ عبدالعزیزؒ — تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ایک روشن باب

تحریر: امتیاز وانی

 

کشمیر کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد، عزم اور استقامت کی تاریخ ہے۔ اس سرزمین نے ایسے عظیم فرزند پیدا کیے جنہوں نے اپنی زندگی کے شب و روز مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے وقف کیے اور وقت آنے پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ شہیدِ عزیمت، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے بانی رہنما، پیپلز لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شیخ عبدالعزیزؒ بھی انہی عظیم شخصیات میں شامل ہیں۔
شیخ عبدالعزیزؒ نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، حقِ خودارادیت اور تحریکِ آزادیٔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لیے وقف کردی۔ وہ ایک ایسے اصول پسند اور ثابت قدم رہنما تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے اصولی مؤقف سے انحراف نہیں کیا۔ ان کی سیاست اور جدوجہد کا مرکز ذاتی مفادات نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادی، عزت، حقوق اور سیاسی مستقبل تھا۔
پیپلز لیگ کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو سیاسی اور عوامی سطح پر منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار ہونے والے شیخ عبدالعزیزؒ نے کشمیری قیادت کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کے فروغ کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت کشمیریوں کے سیاسی، نظریاتی اور قومی مؤقف کی ایک توانا آواز تھی۔

شیخ عبدالعزیزؒ کی زندگی کا آخری باب بھی ان کے عظیم عزم اور بے مثال جرات کی عکاسی کرتا ہے۔

2008ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف کشمیری عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا تھا۔ اس موقع پر شیخ عبدالعزیزؒ نے لاکھوں کشمیریوں کی قیادت کرتے ہوئے اس اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف آواز بلند کی۔

وہ عوام کے ایک بڑے قافلے کے ساتھ اوڑی کے سرحدی علاقے کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ اس تاریخی عوامی احتجاج میں کشمیریوں نے اپنے معاشی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے دفاع کے لیے بھرپور آواز بلند کی۔ قافلے میں ’’تیری منڈی، میری منڈی‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے، جو اس حقیقت کی علامت تھے کہ کشمیری عوام اپنی اقتصادی اور سیاسی آزادی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

11 اگست 2008ء کو اسی جدوجہد کے دوران بھارتی قابض فورسز کی فائرنگ سے شیخ عبدالعزیزؒ شہید ہوگئے۔

ان کی شہادت ایک فرد کا سانحہ نہیں تھی بلکہ پوری کشمیری قوم کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی۔ تاہم شہید کا لہو ہمیشہ کی طرح تحریک کے لیے نئی قوت اور نئی روح کا باعث بنا۔

شیخ عبدالعزیزؒ نے اپنی جان دے کر ثابت کیا کہ حقیقی قیادت صرف الفاظ اور نعروں کا نام نہیں بلکہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے اور قربانی دینے کا نام ہے۔

ان کی شہادت اس حقیقت کی گواہی ہے کہ وہ اپنی قوم کے دکھ، مشکلات اور جدوجہد سے خود کو الگ نہیں سمجھتے تھے۔ جب کشمیری عوام اقتصادی ناکہ بندی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کررہے تھے تو وہ خود عوام کے درمیان موجود تھے اور ان کی قیادت کررہے تھے۔
یہی وہ کردار ہے جو شیخ عبدالعزیزؒ کو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ شہیدِ عزیمت بناتا ہے۔

آج ان کی شہادت کو 18 برس گزر چکے ہیں، لیکن شیخ عبدالعزیزؒ کی قربانی اور جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔ ان کا نام کشمیری شہداء کی اس عظیم فہرست میں شامل ہے جنہوں نے اپنی زندگی ایک مقصد کے لیے وقف کردی۔

ان کی 18ویں برسی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ قومیں اپنے شہداء کو صرف یاد نہیں کرتیں بلکہ ان کے کردار، قربانی اور اصولوں کو اپنی آئندہ نسلوں تک منتقل کرتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو شیخ عبدالعزیزؒ جیسے عظیم رہنماؤں کی زندگی، جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کشمیر کی تاریخ کو محض کتابوں کے صفحات میں نہیں بلکہ ان عظیم قربانیوں کے تناظر میں سمجھ سکیں جنہوں نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو زندہ رکھا ۔
شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا صرف ان کی برسی پر چند الفاظ کہہ دینے کا نام نہیں۔ اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ان کی قربانیوں کو تاریخ کا حصہ بنایا جائے، ان کے کردار کو نئی نسل تک پہنچایا جائے اور ان مقاصد کو اجاگر کیا جائے جن کے لیے انہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
شیخ عبدالعزیزؒ کی زندگی ہمیں یہ ذمہ داری بھی یاد دلاتی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے عالمی برادری کو مسلسل متوجہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شہید زندہ رہتے ہیں

شیخ عبدالعزیزؒ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا نظریہ، ان کا عزم اور ان کی قربانی آج بھی زندہ ہے۔ ان کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنا ہی زندہ قوموں کا شیوہ ہے۔

ان کی زندگی ہمیں استقامت کا درس دیتی ہے، ان کی جدوجہد ہمیں اتحاد کا پیغام دیتی ہے اور ان کی شہادت ہمیں قربانی کا مفہوم سمجھاتی ہے۔

شہیدِ عزیمت شیخ عبدالعزیزؒ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ان روشن چراغوں میں سے ہیں جن کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہے گی۔

شہید کی 18ویں برسی کے موقع پر ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کے حقِ خودارادیت کی آواز کو سیاسی، سفارتی اور انسانی حقوق کے ہر فورم پر مؤثر انداز میں بلند رکھا جائے گا۔

شیخ عبدالعزیزؒ کو سلام،
کشمیر کے تمام شہداء کو سلام،
اور ان عظیم قربانیوں کو سلام جنہوں نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی تاریخ کو اپنے لہو سے روشن کیا۔

اللہ تعالیٰ شہیدِ عزیمت شیخ عبدالعزیزؒ کے درجات بلند فرمائے اور تمام شہداء کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔( مصنف حریت کانفرنس آزادجموں و کشمیر شاخ کے سیکرٹری اطلاعات ہیں)

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button