پاکستانی پانی پر ہاتھ ڈالنے والے کا ہاتھ کاٹ دینگے، پاکستان کی بھارت کو تنبیہ
محمد شہباز
پانی کسی بھی ملک کی سلامتی اور انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ضرورت ہے اور کوئی بھی خود مختار ریاست پانی پر سمجھوتہ کیسے کرسکتی ہے؟پانی کے بغیر انسانی بود و باش ممکن نہیں ہے ۔اگر یہ کہا جائے کہ پانی اور زندگی لازم و ملزوم ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔یہ ایک مروجہ اصول بھی ہے کہ اوپر سے نیچے کی جانب پانی کے بہاو کو روکنا عالمی اصولوں کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ پھر جب پانی کی تقسیم پر عالمی معاہدہ بھی موجود ہو تو اس صورت میں یہ ممکن نہیں ہے کہ ان معاہدات کی خلاف ورزی کی جائے۔
پانی اور خشکی کرہ ارض کے دو بنیادی اور ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم حصے ہیں جو مل کر زمین پر زندگی کے تسلسل اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے جبکہ خشکی 29 فیصد تک محدود ہے، مگر دونوں کا کردار اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ سمندر، دریا، جھیلیں اور گلیشیئرز نہ صرف آبی ذخائر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ موسمیاتی نظام کو بھی متوازن رکھتے ہیں، جہاں تبخیر کے عمل کے ذریعے بارشوں کا نظام تشکیل پاتا ہے۔ سمندری حیات زمین کی آکسیجن کی بڑی مقدار پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری جانب خشکی انسانی زندگی، زراعت، جنگلات اور قدرتی وسائل کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جہاں معدنیات، تیل اور گیس جیسے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ پانی اور خشکی کے درمیان یہ قدرتی ہم آہنگی ہی زمین کے درجہ حرارت، موسم اور حیاتیاتی تسلسل کو برقرار رکھتی ہے، اور اس توازن میں کسی بھی قسم کا بگاڑ شدید موسمیاتی تبدیلیوں، قحط اور قدرتی آفات کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک تاریخی اور بین الاقوامی سندھ طاس معاہدہ موجود ہے جو 19 ستمبر 1960 کو معرض وجود میں آیا۔دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے نظام سے متعلق پانی کے استعمال کے تنازعات کو حل کرنا تھا۔اس معاہدے کے تحت چھ بڑے دریاوں کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا گیا۔مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں دیے گئے، جبکہ مغربی دریا یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا زیادہ تر کنٹرول پاکستان کو دیا گیا۔ بھارت کو مغربی دریاوں کے محدود غیر آبی استعمال (جیسے پن بجلی وغیرہ) کی اجازت دی گئی، مگر ان پر بڑے پیمانے پر پانی ذخیرہ کرنے یا رخ موڑنے پر پابندیاں عائد کی گئیں۔معاہدے کے نفاذ اور تنازعات کے حل کیلئے ایک مستقل کمیشن بھی قائم کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیشن مسائل کے حل کیلئے ابتدائی فورم کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ اختلاف کی صورت میں معاملہ غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت تک بھی جا سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کو اس معاہدے میں ایک ضامن اور سہولت کار کا کردار حاصل ہے، جو تنازعات کی صورت میں تکنیکی اور سفارتی مدد فراہم کرتا ہے۔اگرچہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 66برسوں سے زائد عرصے سے موجود ہے اور اکثر اسے جنوبی ایشیا کے نسبتاً کامیاب آبی معاہدات میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم وقتاً فوقتاً دونوں ممالک کے درمیان اس پر اختلافات اور سیاسی کشیدگی بھی سامنے آتی رہی ہے، خاص طور پر بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاﺅں پر پن بجلی منصوبوں اور آبی بہاو کے معاملات تنازعات کا باعث ہیں۔یہ معاہدہ پاکستان کیلئے اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس کا بڑا حصہ زرعی نظام اور آبپاشی مغربی دریاوں کے پانی پر انحصار کرتا ہے، جبکہ بھارت اسے توانائی اور آبپاشی کے منصوبوں کے نام پر بطور جنگی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
اپریل 2025میں مقبوضہ وادی کشمیر میں معروف سیاحتی مقام وادی بیسرن پہلگام میں 26بھارتی سیاح ایک فالس فلیگ آپریشن میں ہلاک ہوئے۔مودی کے بھارت نے بغیر کسی تحقیق اور تفشیش کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ 06اور07مئی کی درمیانی رات پاکستان اور آزاد کشمیر میں کئی مقامات پر مساجد،مدارس اور رہائشی مقامات کو نشانہ بناکر بچوں اور خواتین سمیت درجنوں افراد کو شہید کیا گیا۔پاکستان نے جوابی کاروائی میں فرانسیسی ساختہ تین رائفیل سمیت سات بھارتی جنگی جہاز مارے گرائے اور پھر 09اور10مئی کی صبح پاکستان نے بھارت کا جو حشر کیا ،وہ رہتی دنیا تک ملٹری نصاب میں پڑھایا جائے گا۔26بھارتی فوجی تنصیبات اور ایس ۔400 ائیر دیفینس سسٹم زمین بوس کرکے بھارت کو چاروں شانے چت کیا۔مودی اب سندھ طاس معاہدے کے علی الرغم پاکستان کے حصے کا پانی روک کر اس کا رخ موڑنے کی کوشش کررہا ہے۔جس پر پاکستان نے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالنے والے کا ہاتھ کاٹ دینگے، پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کریگا، وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے ہمیشہ کہا ہے کہ پانی ہماری بقا کا معاملہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار دونوں وفاقی وزراءنے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر یہ واضح کیا گیا کہ پاکستان سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا کیس پوری طاقت اور دلیل کیساتھ پیش کرتا رہے گا تاکہ ملک کے آبی مفادات اور قومی سلامتی کو ہر صورت محفوظ اور ممکن بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کی 40 سے 50 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے جبکہ قومی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ بھی زراعت سے وابستہ ہے۔ پاکستان میں 50 فیصد روزگار، 20 سے 25 فیصد معیشت اور سو فیصد فوڈ سکیورٹی کا انحصار پانی اور زراعت پر ہے۔ بھارت جو کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، سندھ طاس معاہدے سے مکر رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی پاکستان میں آبی دہشت گردی کرنا چاہتا ہے۔ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے، اس لیے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں ہوسکتا۔اس سلسلے میں حکومت پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور زیریں علاقوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
پاکستان میں پہلی بار سندھ طاس معاہدے پر ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا ہے، جس میں مختلف ممالک سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہوئے۔ یہ سیمینار پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس کا موضوع 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو "امن اور علاقائی استحکام کا ذریعہ” قرار دینا تھا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ پاکستان بلاول بھٹو زرداری نے سیمینار سے کلیدی خطاب کیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی اور اشتعال انگیز ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا۔ پانی ہماری زندگی کی بنیاد ہے! ہم دریائے سندھ کے معاملے پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع موثر سفارتکاری اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدام کے ذریعے بھی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کے آبی حقوق کے خلاف جارحیت کے مترادف ہیں۔پاکستان اپنے آبی حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا کیونکہ دریائے سندھ کا نظام ملک کی زراعت، معیشت اور بقا کی بنیاد ہے۔پاکستان ان حقوق کے تحفظ کیلئے سفارتی سطح پر ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھائے گا، تاہم اگر پانی کے بہاو کو روکا گیا تو سخت اقدامات (بشمول ضرورت پڑنے پر فوجی ردعمل) کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر ماریہ سلطان نے خبردار کیا کہ 66 برس پرانا سندھ طاس معاہدہ، جو خطے میں استحکام کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور تعاون کی معطلی کے باعث کمزور کیا جا رہا ہے ، جو بین الاقوامی قانون کو خطرناک حد تک مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کشیدگی اور تنازعے کو بڑھا سکتی ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ پانی کے بہاو کو روکنا جنگ کے مترادف اقدام ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری کردار ادا کرے تاکہ یہ صورتحال عالمی سلامتی اور معاشی بحران میں تبدیل نہ ہو۔
بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر روکسلینا زیگون نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن وسلامتی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ بین الاقوامی قانون اور سفارتی نظاموں پر بڑھتے ہوئے دباو اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مکالمہ، تعاون اور معاہداتی ذمہ داریوں کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ ڈیٹا شیئرنگ اور رابطوں میں کمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کرتی ہیں ، جبکہ پانی کے مستحکم بہاو کا تحفظ زراعت، غذائی تحفظ اور علاقائی استحکام کیلئے انتہائی ضروری ہے۔سیمینار سے ڈاکٹر مصدق ملک، عطا اللہ تارڑ، انجینئر خرم دستگیر خان، قانونی ماہر احمر بلال صوفی اور مہر علی شاہ نے بھی خطاب کیا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں اور شدید کشیدگی کے باوجود موثر اور قابل عمل رہا ہے،البتہ اس وقت مودی جیسا جاہل، گنوار،متنفراور ہٹلر کا پجاری شخص اور اس کے حواری خاصکر امیت شاہ،راجناتھ سنگھ اور اجیت دوول بھارت کے راج سنگھاسن پر براجمان نہیں تھے ۔ بھارت میں ہر فتنہ پروری کے پیچھے یہی چار کا ٹولہ پیش پیش ہے اور یہی چار کا ٹولہ اس پورے خطے کے امن و استحکام کو تہہ و بالا کرناچاہتا ہے ۔ناہنجارو ں کا یہ ٹولہ یاد رکھیں کہ مئی 2025ابتداءہے اختتام نہیں ۔پاکستان کا پانی روکنا جیسے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام ایسے نتائج کا باعث بنے گا،جس پر صرف سوچا جاسکتا ہے،عملدر ہوا تو کچھ نہیں بچے گا۔ کیونکہ پاکستان یہ عزم کرچکا ہے کہ بھارت نے اس کے حصے کا پانی روکا تو پھر ان دریاﺅں میں خون ہی بہے گا، جو مودی اور اس کے جنگی جنون بھڑکانے والے ٹولے کا بھی ہوسکتا ہے۔








