مضامین

طالبان بھارتی گود میں، کشمیر پر بے اصولی، ایمان و غیرت کا سودا

تحریر: ارشد میر

بھارت اور افغانستان کا مشترکہ اعلامیہ، جس میں کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا،  نہ صرف قانون، انصاف اور حقائق کے منافی ہے بلکہ مظلوم کشمیریوں کی توہین اور اسلامی شریعت کا کھلا مذاق بھی ہے۔ اس اعلامیے نے ایک بار پھر یہ حقیقت بے نقاب کر دی ہے کہ طالبان حکومت جس نے خود کو اسلامی اقدار کی محافظ اور شریعت کی علمبردار قرار دیا تھا دراصل عملی طور پر نہ صرف انہی اصولوں سے روگردانی کر رہی ہے بلکہ ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جو ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے اور مظلوم سے منہ موڑنے کے مترادف ہیں۔

پاکستان کا ردعمل مکمل طور پر بجا اور بروقت ہے۔ اسلام آباد نے افغان سفیر کو طلب کر کے واضح کر دیا کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انصاف کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔  جموں وکشمیر کی حیثیت ایک بین الاقوامی تنازعہ کی ہے جس پر درجنوں قراردادیں اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل وہاں کے عوام کے آزادانہ حقِ رائے دہی سے طے ہونا ہے۔

طالبان حکومت، جسے پاکستان نے مشکل ترین حالات میں سہارا دیاجس کے لیے سفارتی حمایت فراہم کی اور جسے دنیا کے ساتھ جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا آج اسی  کے زخموں پر نمک چھڑک کر سانپوں کو دودھ پلانی والی مثل کی عملی تصویر پیش کر رہی ہے۔ یہ وہی طالبان ہیں جنہیں پاکستان نے بیس سالہ امریکی قبضے کے دوران سیاسی پناہ، سفارتی راہ اور انسانی امداد فراہم کی لیکن آج، بھارت کے ساتھ بیٹھ کر وہ ایسا  شرمناک مشترکہ اعلامیہ جاری کر رہے ہیں جو نہ صرف پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ کشمیری عوام کی قربانیوں اور ان کی منصفانہ جدوجہدِ آزادی کی توہین بھی ہے۔ یہ طرزِ عمل سفارتی بدعہدی، اخلاقی دیوالیہ پن اور احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے۔

جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا صرف سیاسی یا جغرافیائی  حقائق سے انکارنہیں بلکہ یہ ایک عقیدے، انسانیت اور انصاف کے ساتھ  بھی کھلی بغاوت ہے۔ طالبان حکومت، جو شریعت کے نفاذ کی دعویدار ہے، دراصل اسی شریعت کے بنیادی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اسلام نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، مظلوم کی حمایت کرنے اور غاصب کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا حکم دیا ہے۔ اسباقِ اسلامی  میں ایک مظلوم کی مدد نہ کرنا بلکہ ظالم کی تائید کرنا،  گناہِ کبیرہ اور اخلاقی بددیانتی ہے۔ کشمیر کے عوام جنہیں گزشتہ 78 برسوں سے بھارت کے فوجی محاصرے ، قتل و غارت، عزت ریزی اور توہین و تذلیل کے ساتھ ساتھ تہذیبی و عددی تطہیر کا سامنا ہے، کی حمایت صرف سیاسی  ذمہ داری نہیں بلکہ شرعی، اخلاقی اور انسانی  فریضہ بھی ہے۔

طالبان حکومت کے حالیہ اقدامات نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ان کی نام نہاد "اسلامی حکومت” دراصل مفاد، ڈالر کی لالچ اور جہالت و جنونیت پر مبنی اورریاستی اقدار و سفارتی آداب   سے عاری ہے۔ جو حکومت قرآن و سنت کے اصولوں کو نظر انداز کر کے اپنی بقا کو بیرونی مفادات اور وقتی سیاسی تعلقات کے ساتھ جوڑ لے وہ نہ اسلامی کہلا سکتی ہے اور نہ ہی امتِ مسلمہ کی نمائندہ۔قابض، جابر اور فسطائی  بھارت کے ساتھ کھڑا ہونا دراصل ظلم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے والے افراد یا حکومتوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔

کابل کی قیادت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس پاکستان نے ان کے لیے سرحدیں کھولیں، لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور عالمی دباؤ کے باوجود طالبان کے سیاسی وجود کو قبولیت دلائی، اسی پاکستان کے مفادات کے خلاف کھڑا ہونا دراصل اپنی جڑوں کو کاٹنے کے مترادف ہے۔ یہ سفارتی نہیں بلکہ اخلاقی خودکشی ہے۔ افغانستان کے حکمرانوں کو لمحہ بھر کے لیے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس سرزمین پر وہ حکومت کر رہے ہیں اس کی آزادی میں ہزاروں  پاکستانیوں اور کشمیریوں کا خون بھی  شامل ہے۔ ان قربانیوں کا احترام ایمان کا تقاضا ہے اور ان کی توہین ایمان سے انحراف۔

بھارت افغانستان کے مشترکہ اعلامیہ نے جہاں بھارت کے عزائم کو مزید واضح کیا وہیں طالبان حکومت کا حقیقی چہرہ بھی بے نقاب کردیا۔ بھارت کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو “اندرونی معاملہ” قرار دے کر عالمی سطح پر اس کی  متنازعہ  حیثیت کو ختم کر ے۔ اب بھارت نے طالبان حکومت کی کمزوری، لاعلمی اور موقع پرستی کو استعمال کر کے ایسا سفارتی کارڈ کھیلا ہے جس سے نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو نقصان پہنچا بلکہ مسلم دنیا میں انتشار کو بھی فروغ ملا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ طالبان حکومت نے اس سازش کو نہ صرف سمجھنے میں ناکامی دکھائی بلکہ عملاً اس کا حصہ بن گئی۔ طالبان حکومت کی اس سفارتی شرپسندی کے بعد  سوال اٹھتا ہے کہ کیا افغانستان کی اسلامی تعاون تنظیم کی  رکنیت برقرار رہنے کا کیا قانونی اور اخلاقی جواز بنتا ہے جو ہمیشہ سے اور اتفاق رائے سے  جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ ماننے کے بجائے ایک ایسا متنازعہ اور حل طلب  علاقہ تسلیم کرتی آئی ہے جسکا تصفیہ صرف اقوام متحدہ کی قرار دودوں اور کشمیریو عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے؟ او آئی سی کا موقف ہمیشہ پاکستان کے موقف سے ہم آہنگ رہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد کسی سرحدی تنازعے کی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق، انصاف اور آزادی کی جدوجہد ہے۔ اس مؤقف کو آو آئی سی کے ساتھ ساتھ  اسلام، اخلاق، تاریخ، قانون  اور زمینی حقائق ، سب کی تائید حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف عالمی فورمز پر بلکہ اسلامی دنیا میں بھی کشمیر کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ اسکے لئے یہ قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ  کوئی  ملک اپنے مفاد کی خاطر کشمیر جیسے انسانی مسئلے کو بھی سودے بازی کا ذریعہ بنا لے۔ وہ بھی وہ ملک جس کی حکومت کو اقوام کی برادری میں خود قبولیت کا درجہ حاصل نہیں۔

طالبان حکومت کی یہ ایمان فروشی کشمیریوں کی عظیم اور اصولی جدوجہد  کی تذلیل ہے۔ اگر وہ واقعی شریعتِ محمدی ﷺ کے پیروکار ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کی بنیاد ہی انصاف، مساوات اور مظلوم کی حمایت پر ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:
"وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ”
(تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان کمزوروں کے لیے نہیں لڑتے جو ظلم کا شکار ہیں؟)
کیا کشمیر کے عوام ان “مستضعفین” میں شامل نہیں جنہیں بھارتی ظلم و جبر نے غلام بنا رکھا ہے؟ کیا ان کی فریاد طالبان کے کانوں تک نہیں پہنچتی؟ اگر نہیں، تو پھر یہ "اسلامی امارت” نہیں بلکہ "سیاسی منافقت” کی امارت ہے۔

طالبان کی بھارت نوازی کا انجام افغانستان کے عوام کے لیے بھی نقصان دہ ہو گا۔ بھارت وہ ملک ہے جو کبھی افغان سرزمین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے سے باز نہیں آیا۔  اس نے افغانستان پر قابض ہر بیرونی قوت کا عملی ساتھ دیا اور آزادی کی جنگ لڑنے والے افغانوں کو کچلنے  کے سامان کئے۔ بعد ازاں اس  لومڑی نے افغانستان کے نئے حالات میں خود کو ڈھال کر وہاں پاکستان مخالف نیٹ ورک قائم کیے، پاکستان دشمن گروہوں کو مالی اور عسکری مدد دی اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ اب اگر طالبان انہی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر اعلامیے جاری کر رہے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی خودمختاری بلکہ اپنے عوام کے اعتماد کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

پاکستان کا احتجاج اس لیے بھی بروقت ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر دوغلی پالیسی یا خاموشی کسی بھی مسلمان یا انسانی ضمیر رکھنے والے ملک کے لیے شرمناک عمل ہے۔ پاکستان کا یہ واضح پیغام دراصل پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر کی ترجمانی ہے کہ کشمیر کی جدوجہد نہ کسی قوم پرستی کی تحریک ہےنہ سیاسی مفاد کی جنگ، بلکہ یہ ظلم و جبر کے خلاف انسانی اور ایمانی فریضہ ہے۔

افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرے۔ پاکستان کی دوستی اور قربانیوں کو کمزور ی نہ سمجھے بلکہ اسے ایک برادر ملک کی خیر خواہی سمجھے۔ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت صرف پاکستان کی پالیسی نہیں بلکہ اسلامی شریعت، عالمی انصاف، جغرافیائی حد بندیوں اور انسانی معاشروں کے اصولوں اور انسانی ضمیر کا تقاضا ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو تاریخ میں وہ اس حیثیت سے یاد کی جائے گی کہ جب امتِ مسلمہ کے ایک حصے نے ظلم کے خلاف بولنے کے بجائے ظالم کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔

بھارت-افغان مشترکہ اعلامیہ صرف ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک لکیر ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے جو مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہے، انصاف کی بات کرتا ہے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا تو دوسری طرف طالبان حکومت ہے جو بقائے باہمی کے اصولوں، انصاف،  ایمان اور شریعت کو بیچنے پر آمادہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے والے کبھی سرخرو نہیں ہوتےاور نہ کبھی وہ امت کے دلوں میں جگہ بنا پاتے ہیں۔ کشمیر کی حمایت صرف پاکستان کا نہیں بلکہ اسلام، ایمان ، قانون، انصاف اور انسانیت کا تقاضا ہےاور جو اس فریضے سے غفلت برتے گاوہ تاریخ کے کٹہرے میں شرم و ندامت کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button