مقبوضہ جموں وکشمیر میںبی جے پی کی تعلیمی مواد کے خلاف تازہ مہم
سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں موجود کتاب کو ہٹانے کا مطالبہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی نے تعلیمی مواد کے خلاف ایک تازہ مہم شروع کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں موجود ایک کتاب پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی کا کہناہے کہ اس کتاب سے کشمیریوں کے آزادی کے بیانیے کو فروغ ملتا ہے اور اس میںبھارت کو ایک قابض طاقت کے طور پر بیان کیاگیا ہے۔تنازعے کا باعث” پرسنلٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے“ نامی کتاب ہے جس کے بارے میں بی جے پی کے رہنما اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے محکمہ سکول ایجوکیشن کی ایک ماہر کمیٹی نے سرکاری سکولوں کی لائبریریوں کے لیے منظور کیا ہے۔سنیل شرما نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس کتاب میں حریت رہنماو¿ں، عسکریت پسندوں اور پتھراو¿ کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے جبکہ بھارتی فورسز اور عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں ملوث افراد کو منفی اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں” بھارت کے زیر قبضہ کشمیر“ اور”بھارتی مقبوضہ کشمیر“کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں اور بھارت کوایک قابض طاقت کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔ سنیل شرما نے اس کی اشاعت کو غداری اور اسے تعلیمی جہادقرار دیتے ہوئے اسکولوں اور لائبریریوں سے اسے فوری طور پر ہٹانے، اس کی اشاعت اور منظوری کی عدالتی تحقیقات کرانے، اور اس کے مصنفین، پبلشر، تقسیم کاروں اور منظوری دینے والی کمیٹی کے اراکین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیرکے محکمہ تعلیم کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیر تعلیم کو بر طرف کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ حکمران نیشنل کانفرنس کی زیرقیادت انتظامیہ نے اس طرح کے بیانیے کو ”دانشورانہ تحفظ“ فراہم کیا۔یہ تنازعہ اگست 2019 میں دفعہ370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ علاقے میں تعلیمی مواد کی بڑھتی ہوئی سیاسی جانچ پڑتال کے درمیان سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سال بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے کشمیر کی تاریخ اور سیاست سے متعلق کئی ممتاز مصنفین کی 25 کتابوں پر پابندی عائد کردی تھی جس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیاہے۔ پابندی کے بعد بھارتی پولیس نے ممنوعہ کتابوں کی ترسیل کو روکنے کے لیے کشمیر بھر میں کتابوں کی دکانوں کی تلاشی لی اور ان کو اپنے قبضے میں لیا۔اس اقدام پر مصنفین، صحافیوں، سول سوسائٹی کے گروپوں اور سیاسی رہنماو¿ں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی جنہوں نے پابندی کو اظہار رائے کی آزادی اور علمی آزادی پر حملہ قرار دیا۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین تنازعہ بی جے پی کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں علمی مباحثوں کو اپنے نظریاتی ایجنڈے کے مطابق نئی شکل دینے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت اور تعلیمی مواد کو سنسر کرنے کی بار بار کوششیں تعلیمی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہیں، مختلفتاریخی نقطہ نظر کو دباتی ہیں اور کشمیر کی سیاسی تاریخ اور زمینی حقائق پر معروضی بحث کو محدود کرتی ہیں۔





