اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام سیمینار

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیرشاخ اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد کیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی کی زیر صدارت سیمینار میں 13جولائی 1931 کے عظیم شہدا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔سیمینار میں مختلف سیاسی، سماجی، علمی اور کشمیری رہنمائوں نے شرکت کی۔ سیمینار سے آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان، محمد فاروق رحمانی، آزاد کشمیر کی سابق وزیر فرزانہ یعقوب، نبیلہ ارشاد، عاصمہ شاکر خواجہ، شمیم شال، محمود احمد ساغر، محمد رفیق ڈار، حسن البنا، مشتاق پیرزادہ، راجہ خان افسر خال، الطاف حسین وانی اور نجیب اللہ الغفور نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ 13جولائی 1931جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن ہے، جب ڈوگرہ حکمران کے فوجیوں نے سرینگر سینٹرل جیل کے باہر اذان کی تکمیل اور حق و انصاف کی آواز بلند کرنے والے 22فرزندانِ توحید کو گولیاں مارکر شہید کر دیا۔ انہی عظیم قربانیوں نے تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد مضبوط کی اور کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو نئی قوت بخشی۔انہوں نے کہا کہ 1947میں ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد بھارت نے فوجی طاقت کے ذریعے جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا اور آج تک کشمیری عوام کو ان کے بنیادی انسانی، سیاسی اور جمہوری حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ہندوتوا پالیسیوں کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر کی انتہا کر دی گئی ہے۔ سیاسی کارکنوں، حریت قیادت، نوجوانوں اور عام شہریوں کو بدترین ریاستی جبر کا سامنا ہے جبکہ مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی، غیر قانونی اقدامات اور مسلسل مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں اور وہ 1931کے شہدائے کے مشن کی تکمیل، حق خودارادیت کے حصول اور تحریک آزادی کی کامیابی تک اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔انہوں نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ، عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، غیر قانونی گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حق خودارادیت دینے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔سیمینار میں سینٹر زرقا سہروردی،شیخ عبدالمتین، دائود خان یوسفزئی، منظور احمد ڈار، حاجی سلطان بٹ، محمد شفیع ڈار، نثار مرزا، عدیل مشتاق، عبدالمجید لون، محمد اشرف ڈار، زاہد مشتاق، میاں مظفر، راجہ پرویز، سرور حسین گلگتی اور امتیاز وانی سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی شرکت کی۔







