مغربی بنگال: بی جے پی حکومت نے کوئی مساجد کے لاﺅڈ سپیکر نکلوا دیے

کولکتہ:ریاست مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت نے کئی مساجد سے لاﺅڈ سپیکر نکلوا دیے ہیں۔ حزب اختلا ف کے رہنماﺅں نے حکومتی اقدام کو کڑی تنقید کا نشان بنایا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حزب اختلاف کے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی دستور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے رہنما خطوط فراہم کرتا ہے جبکہ لاﺅڈ سپیکر کے استعمال کے بارے میں سپریم کورٹ کا بھی حکم موجود ہے جس پر کوئی عمل نہیں کر رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی نے ریاست میں نیا نیا اقتدار سنبھالا ہے لہذا اسے اپنی تمام توجہ تعمیر و ترقی پر مرکوز کرنی چاہیے جبکہ اسکے بجائے اسکی توجہ لاﺅڈ سپیکروں ، جانوروں کی قربانی اور اذان پر مرکوز ہے ، عوامی فلاح وبہبود کی طرف اسکا کوئی دھیان نہیں ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ایشا خان چودھری نے زور دیکر کہا کہ اگر لاﺅڈ سپیکر کے بارے میں کوئی قانون موجود ہے توملک بھر میں اسے یکساں طور پر نافذ کیا جانا چاہیے نہ کہ یہ کسی خاص برادری پر لاگو کیا جائے ۔
سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقراءحسن نے بھی لاﺅڈ سپیکروں پر پابندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی سیاست مختلف برادریوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے پر مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ساری سیاست ہندو مسلم کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے گرد گھومتی ہے ۔
ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے اس کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، انہوںنے کہا کہ وہ لوگ مسلمانوں کو امن کے ساتھ جینے سے روکنے کیلئے یہ سب کر رہے ہیں ، وہ مسلمانوں کی شناخت کو مٹا دینا چاہتے ہیں ، ہم انکی حرکات کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔








