19 جولائی پاکستان کیساتھ جموں وکشمیر کے تاریخی تعلق کی تجدید کا دن ہے: حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ نے کہا ہے کہ 19 جولائی جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک تاریخی اور فیصلہ کن دن ہے جب 1947ءمیں اس روز آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کر کے کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کا اظہار کیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ یومِ الحاقِ پاکستان کشمیری عوام کے پاکستان کے ساتھ تاریخی، سیاسی اور نظریاتی رشتے کی علامت ہے۔ گزشتہ 78 برسوں سے کشمیری عوام اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور بھارتی جبر و استبداد، فوجی محاصرہ، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی ان کے جذب آزادی کو متزلزل نہیں کر سکیں۔
بیان میں کہا گیاکہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے، زمینوں پر قبضے، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں سے زمینی حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ مسئلہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے میں مضمر ہے۔حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ نے اپنے بیان میں اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق انکا حق خودارادیت دلانے کے لیے کردار ادا کریں۔







