کشمیری نوجوانوں کو بے روزگاری اورروزگار کے عدم تحفظ کا سامنا ہے: رپورٹ

نئی دہلی: نئی دہلی میں قائم ”پیریاڈک لیبر فورس سروس ” نے اپنی 2024-25 کی رپورٹ میں کہاہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر روزگار کے دوہرے بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں بے روزگاری سب سے بلند سطح پر ہے اور ملازمت پیشہ افراد بھی روزگارکے عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ نوجوان غیر رسمی شعبے میں معمولی اجرتوں پرکام کرنے پر مجبور ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں 77.3فیصد دیہی اور 70فیصد شہری غیر زرعی غیر رسمی شعبے سے منسلک ہیں جوبغیر کسی معاہدے، روزگار کے تحفظ یا سماجی تحفظ کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ کے مطابق کم از کم 41.8%ریگولر اجرت حاصل کرنے والوں کے پاس ملازمت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، 42.1%تنخواہ کاٹے بغیرچھٹی نہیں لے سکتے جبکہ44.1% کوپراویڈنٹ فنڈ یا ہیلتھ انشورنس جیسے سماجی تحفظ کے فوائد حاصل نہیں ہیں۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بحران شدید بے روزگاری کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔ بھارت میں 15سے29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 10.2%ہے جبکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں یہ شرح17.4% ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 32فیصد تک پہنچ گئی جو کہ بھارت کے کسی بھی علاقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح حیرت انگیز طور پر 53.6فیصد ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں سے46.3فیصد سالہاسال کی تعلیم کے باوجود بے روزگار ہیں۔کسی سرکاری وظیفے یا بے روزگاری الائونس کی عدم موجودگی کی وجہ سے مایوسی مزید بڑھ گئی ہے۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے 32سالہ انجینئرنگ گریجویٹ محمد عامر نے بتایا کہ اس نے 2015سے اب تک درجنوں ملازمتوں کے لیے درخواستیں دی ہیں، فیسوں پر ہزاروں روپے خرچ کیے لیکن روزگار نہیں ملا۔انہوں نے کہاکہ اس عمر میں اپنے والدین سے جیب خرچ مانگنا ذلت آمیز محسوس ہوتا ہے۔ جب میں نے گریجویشن کی تو میں نے خواب دیکھے تھے لیکن اب یہ میری بقاء کا مسئلہ ہے۔12 سال سے بے روزگار ی کا شکارشوپیاں کے ایک پوسٹ گریجویٹ ارشاد احمد بٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہر کوئی سرکاری ملازمت کی توقع نہیں رکھتا، لیکن کم از کم ہم کچھ مدد کے مستحق ہیں، یہاں تک کہ ایک معمولی وظیفہ بھی کتابیں خریدنے یا درخواست کی فیس ادا کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔ حالیہ مہینوں میںپی ایچ ڈی ہولڈرز سمیت اعلی تعلیم یافتہ کشمیریوں کی ویڈیوز جو سڑک کنارے ریڑی لگانے پر مجبورہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس نے غم و غصے کو جنم دیا اور بحران کی گہرائی کو اجاگر کیا۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس وقت 370,811بے روزگار نوجوان حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیںجن میں سے213,007وادی کشمیر میں اور 157,804جموں خطے میں ہیں۔ اس کے باوجود بھرتی کا عمل بہت سست روی کا شکار ہے اور نجی شعبہ بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو جذب کرنے سے قاصر ہے۔







