مودی نے اسرائیل کے دورے سے نہ صرف اپنی بلکہ پورے بھارت کی تذلیل کی، اسرائیلی وکیل

نئی دہلی: ممتاز اسرائیلی وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن Eitay Mack نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے اس دورے سے نہ صرف اپنی بلکہ پورے بھارت کی تذلیل کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میک ایٹے نے ”دی وائر “ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں مودی کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھایا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مودی نے یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اسرائیل میں انتخابات کا عمل قریب ہے اور بیشتر عالمی رہنما غزہ میں اسرائیل کی بربریت اور مغربی کنارے میں جاری نسلی تطہیر پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کی وجہ سے اسرائیل کے دورے یا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقاتوں سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ نیتن یاہو نے مودی کے ساتھ اسرائیل کے سرکاری مہمان کے طور پر نہیں بلکہ نیتن یاہو خاندان کے نجی مہمان کے طور پر سلوک کیا۔ نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ کی طرف سے نریندر مودی کیلئے ذاتی عشائیہ کا اعلان کیا گیا تھا۔انہوں نے لکھا نے کہ اسرائیل میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کیا، انہوں اسرائیلی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی طرف سے طریقہ کار کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا، جسے بڑے پیمانے پر نیتن یاہو کی کٹھ پتلی سمجھا جاتا ہے۔ خالی نشستوں کو پ±ر کرنے کے لیے سابق قانون سازوں کو اپوزیشن بنچوں پر بٹھانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا- میک نے لکھا کہ مودی نے اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود اپنی تقریر آگے بڑھائی اور اسے سیاسی مسخروں، نسل پرست اتحادی قانون سازوں اور حکومتی وزراءکو سناتے رہے جنہوں نے غزہ کی پٹی کے تمام باشندوں کو جلانے، مارنے، بھوکا مارنے اور نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔
میک نے کہا کہ مودی کے دورے کا سب سے شرمناک اقدام انہیں کنیسٹ میڈل پیش کرنا تھا۔ انہوںنے مزید لکھا کہ کچھ لوگوں نے دلیل دی کہ اس دورے کا مقصد دفاعی تعاون کو آگے بڑھانا ہے جبکہ بھارت طویل عرصے سے اسرائیل کے ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے اور اسے سودے کو حتمی شکل دینے کے لیے ہائی پروفائل دوروں کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے لکھا کہ مودی کے دورے کاایک نتیجہ یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کوٹھیک کرنے کے لیے نیتن یاہو سے مدد مانگی ہو۔تاہم دورے کی وجہ کچھ بھی ہو وزیر اعظم مودی نے اپنی اور بھارت دونوں کی تذلیل کی۔






