جموں : ریاست کا درجہ دینے کے لیے کانگریس کا دھرنا، پولیس کا کریک ڈائون ،درجنوں گرفتار
جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کو میں کانگریس نے علاقے کو مکمل ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنے کے مطالبے پر زور دینے کیلئے جموں میں احتجاجی دھرنا دیا اور لوک بھون ( لیفٹیننٹ گورنر کی رہائش گارہ )کی طرف مارچ کی کوشش کی۔ بھارتی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پارٹی کے درجنوں رہنمائوں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا اور ان کا لوک بھون کی جانب مارچ ناکام بنا دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڑی تعداد میں کانگریس کارکنوں نے شہر کے وسط میں واقع مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں پرامن دھرنا دیا۔ دھرنے اور احتجاجی مارچ کی قیادت کانگریس مقبوضہ جموں وکشمیر شاخ کے صدر طارق حمید قرہ اور جی اے میر کر رہے تھے۔
مظاہرین بھارتی صدر دروپدی مرمو کے نام لوک بھون ایک یاد داشت پیش کرنا چاہتے تھے، جس میں جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پولیس نے مارچ کو روکنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی اور مارچ کے شرکا پر ہلہ بول دیا اور درجنوں کانگریسی کارکنوں کو حراست میں لے کر انہیں پولیس لائن منتقل کر دیا۔اس دوران مارچ کے شرکاء اور پولیس اہلکاروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ حراست میں لیے جانے والوں میں جی اے میر ، ورکنگ صدر رمن بھلا بھی شامل ہیں۔قبل ازیںطارق حمید قرہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس تقریبا دو سالوں سے ریاست کی بحالی کے لیے مہم چلا رہی ہے، اور ضلع سطح کے پروگراموں، بھوک ہڑتالوں اور مہم کے ذریعے جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں "چلو سری نگر”، "چلو جموں” اور "چلو دہلی” کے نعروں کے تحت یہ پیغام پہنچا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یادداشت کو لیفٹیننٹ گورنر کی رہائش گاہ پر بھارتی صدر کو آگے بھیجنے کے لیے پیش کیا جانا تھا۔کررا نے یہ بھی اعلان کیا کہ پارٹی ضلعی سطح کے پروگراموں کے دوسرے دور کے ساتھ اپنی تحریک کو تیز کرے گی اور وہ کٹھوعہ کے لکھن پور سے شمالی کشمیر کے لولاب تک لانگ مارچ پر غور کر رہی ہے۔






