بھارتی مسلح افواج میں بدعنوانی اور مالی بے ضابظگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات

نئی دہلی: بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران سے منسلک بڑے پیمانے پر مالی فراڈ اور بدعنوانی کے واقعات نے بھارتی مسلح افواج میں احتساب اور خریداری کے نظام کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں کے 166 ملٹری ہسپتال سے متعلق ایک بڑے مقدمے میں آرمی میڈیکل کور کے ایک لیفٹیننٹ کرنل کو تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کے طبی آلات کی جعلی خریداری کے الزام میں فوج سے برطرف کر دیا گیا اور قیدبامشقت کی سزا سنائی گئی۔ ہسپتال کی کمانڈ کرنے والے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کو بھی 11 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق 16 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ان مقدمات میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے لیے جعلی ہنگامی ضرورت ظاہر کرنے، مسابقتی بولی کے طریقہ کار کو نظرانداز کرنے اور نجی سپلائرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے خریداری کے عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات شامل تھے۔افسران پر الزام تھا کہ انہوں نے خریداری کے عمل میں جعلی تکنیکی منظوری کی دستاویزات کو نظرانداز کیا یا ان پر انحصار کیا۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2000 سے 2023 کے درمیان بھارتی مسلح افواج میں بدعنوانی کے 1,800 سے زائد مقدمات درج کیے گئے جن میں مالی فراڈ اور انتظامی بے ضابطگیوںکے ریکارڈ شدہ مقدمات میں بھارتی فوج کا حصہ 97 فیصد سے زیادہ تھا۔بے ضابطگیوں کے ریکارڈ میں زمین سے متعلق بڑے اسکینڈلز بھی شامل ہیں جن میں سکھنا اور آدرش ہاوسنگ کے مقدمات کے علاوہ فوج میں بھرتیوں کے دوران رشوت ستانی سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔بار بار سامنے آنے والے یہ اسکینڈلز بھارتی فوجی نظام میں شفافیت، مالی نگرانی اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں، جہاں اعلیٰ افسران پر بارہا اپنے اختیارات اور عوامی وسائل کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔






