پاکستان کو علاقائی جنگ کو روکنے کے لیے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے ہوں گے: مسعودخان

اسلام آباد : امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے باوجود وسیع تر علاقائی جنگ کو روکنے کے لیے سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسعود خان نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو قطر، عمان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر کشیدگی میں کمی اور پرامن تصفیہ کے لیے مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنی چاہیے۔سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ تازہ ترین کشیدگی ایک بہت زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جس میں شہریوں اور اہم انفراسٹرکچر کو تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے انسانی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی اور مشرق وسطیٰ مزید غیر مستحکم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کو سفارتی راستے کھلے رکھنے کی ترغیب دے کر ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔خلیجی سلامتی کی صورتحال پر انہوں نے خبردار کیا کہ باب المندب اور خلیجی بحری راستوں سمیت سمندری راستوں کو لاحق خطرات عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مرحلہ وار انتخابات کو ایک عملی حل قرار دیا اور کہا کہ امن اور عوام کے اعتماد کو یقینی بناتے ہوئے جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔بھارت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کے نظریاتی رجحانات نے بھارت میں انتخابی سیاست سے آگے بڑھ کر ریاستی اداروں کو متاثرکیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار علاقائی امن کے لیے تکثیریت اور اقلیتوں کے حقوق کے احترام پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔








