مقبوضہ کشمیر:مقامی سیاسی رہنماﺅں کی طرف نامعلوم افراد کے ہاتھوں غیر مقامی مزدوروں کے قتل کی مذمت

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیرمیں مقامی سیاسی رہنماﺅں نے نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ضلع کولگام میں 2غیر مقامی افراد کے قتل کی مذمت کی ہے۔ کولگام کے علاقے کیلم میں جمعہ کی شام نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے2غیر مقامی مزدور دیپک اور بھوپندر ہلاک ہو گئے تھے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں مزدوروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بے گناہ کے قتل کو کسی طور جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ روزی کمانے کے لیے آئے ہوئے غریب مزدوروں کو نشانہ بنانا انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ چاہے کشمیر ہو یا کوئی اور جگہ بے گناہوں کا قتل انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ میرواعظ نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عبداللہ نے بھارتی ریاست چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو مزدوروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوںنے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے 10، 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کولگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب بھی ہم ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے میں تیزی لاتے ہیں تو اس طرح کے افسوسناک واقعات کیوں پیش آتے ہیں۔انہوںنے کہا یہ ہم نہیں جانتے کہ مزدوروں کو کس نے مارا اور مجرم کون ہیںتاہم ذمہ داروں کی شناخت کے لیے مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر محبوبہ مفتی نے مزدوروں کے قتل پر اپنے ردعمل میں کہا کہ انکے پاس واقعے کی مذمت کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی انتظامیہ نے جاری امرناتھ یاتر ا کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا جو سیکورٹی کی سنگین کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ نے اسلام آباد میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں 22جولائی کو ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد وادی میں پابندیاںتیز کی گئیں اورہزاروں نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا یہاں تک کی انتہائی معمر افراد کو بھی عسکریت پسندوں کے کارندے قرار دیکر انکے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔انہوںنے کہاکہ بے انتہا حفاظتی انتظامات کے باوجود کوئی اس طرح کا حملہ کرنے میں کیونکر کامیاب ہوا۔ ؟







