
تاریخ کی راہوں میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض زمانی واقعات کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ وہ اقوام کی فکری میراث، تہذیبی شناخت اور قومی بقاء کے چراغ بن جاتے ہیں۔ ان کی گونج وقت کی حد بندیوں سے نکل کر صدیوں تک قوموں کے شعور ان کی نظریاتی ترجیحات اور اجتماعی سمت میں بازگشت کرتی رہتی ہے۔ قراردادِ الحاقِ پاکستان بھی تاریخ کا ایسا ہی عظیم الشان سنگِ میل اور ایک ایسا فیصلہ ہے جسے 19 جولائی 1947ء کو کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں نے سری نگر کے علاقے آبی گزر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقدہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
راقم الحروف چونکہ سفارتی امور اور سیاسی امور کا طالب علم رہا ہے اس لیے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے بیس کیمپ آزاد کشمیر کی تاریخ ساز شخصیات سے نہ صرف ملاقات کا شرف حاصل ہوا بلکہ ان سے چشم دید حقائق، سیاسی محرکات اور نظریاتی پس منظر جاننے کے مواقع بھی میسر آئے۔
ایسا ہی ایک لمحہ 19 جولائی 2004ء کی گرم مگر خوشگوار دوپہر کو میرپور کے PWD ریسٹ ہاؤس میں پیش آیا۔ سبزہ زار لان میں رنگ برنگے پھولوں کی مہک اور پرسکون فضا میں ہم چند احباب قائد کشمیر، موجودہ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آمد کے منتظر تھے کہ اچانک، گھنے سائے میں بیٹھے تحریکِ آزادی کے ایک جلیل القدر کردار سے ملاقات ہوگئی یہ تھے قائدِ ملت چوہدری نور حسین صاحب وہی شخصیت جو قراردادِ الحاقِ پاکستان پر دستخط کرنے والے 11 منتخب نمائندوں میں شامل تھے اور 1947ء میں میرپور کی نمائندگی کرتے ہوئے سری نگر کے تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔اس موقع پر اُن سے 19 جولائی کے تاریخی پس منظر اور اجلاس کی اندرونی فضا پر مفصل گفتگو ہوئی اور کچھ سیکھنے کا موقع میسر آیا۔
یومِ الحاقِ پاکستان صرف ماضی کی یاد دہانی نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی ذمہ داریوں کی تجدید ہے۔ یہ دن دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہونے والی مملکتِ خداداد پاکستان سے کشمیریوں کے اس ناقابلِ انکار، دائمی اور نظریاتی رشتے کا مظہر ہے جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت، قیادت اور فکر سے پیوستہ ہے۔
یقیناً پاکستان اور کشمیر کا تعلق محض جغرافیائی قربت یا زمینی حدود و قیود کا نام نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی یگانگت، ایمانی ہم آہنگی اور تہذیبی وحدت کا وہ پختہ رشتہ ہے جو قربانیوں کے لہو، دعاؤں کے چراغ اور وفاؤں کے جذبوں سے تحریر کیا گیا ہے۔ یہ رشتہ نہ وقت کی گرد سے مدھم ہوا، نہ جبر کی زنجیروں سے ٹوٹا اور نہ ہی عالمی ضمیر کی بےحسی اسے مٹا سکی۔ قائداعظم محمد علی جناح کا خواب صرف ایک جغرافیائی ملک نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست تھی جو برصغیر کے مسلمانوں کی دینی، تہذیبی، لسانی اور تمدنی شناخت کی محافظ ہو۔
قراردادِ الحاقِ پاکستان اس ابدی رشتے کی ایک ایسی گواہی ہے جو اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی مذہبی روح، جغرافیائی ساخت، ثقافتی روایت، لسانی قربت، قدرتی بہاؤ اور تہذیبی ہم آہنگی اسے بھارت نہیں بلکہ پاکستان سے جوڑتے ہیں۔ یہ محض کوئی وقتی ردِعمل یا سیاسی چال نہ تھی، بلکہ یہ ایک شعوری فیصلہ، ایک نظریاتی اعلان اور ایک ایمانی عہد تھا، جو کشمیری قوم کے ضمیر، شعور اور ایمان کی گہرائیوں سے ابھرا اور وقت کی ہر آزمائش پر پورا اُترا۔
1947ء سے آج تک کشمیری عوام نے اپنی آزادی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ انسانی تاریخ کے اوراق پر سنہری ابواب کی صورت رقم ہو چکی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ "Global Peace Index 2025” کے مطابق 1989ء سے اب تک ہزاروں کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں فی کس سب سے زیادہ فوج تعینات ہے۔
رپورٹ میں واں سال مئی میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کوجواز بنا کر بھارت کی طرف سے پاکستان اور آزاد کشمیر پر بلا اشتعال جارحیت کو بھی ایک خطرناک اقدام قرار دیا گیا ہے جس سے تباہ کن جوہری جنگ شروع ہونے کا خطرہ تھا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں دس لاکھ سے زائد جدید اسلحہ سے لیس بھارتی افواج کی تعیناتی دنیا میں قابض افواج کی سب سے بڑی موجودگی کا غماز ہے۔ یہ محض عسکری قبضہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کی جسمانی، نفسیاتی، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر مکمل تسلط کی ایک منظم اور گہری سازش ہے جس کا مقصد کشمیری قوم کے احساسِ شناخت اور نظریۂ پاکستان سے فطری و تاریخی وابستگی کو مٹانا ہے۔
بھارت کا ایک اور مذموم ہتھکنڈہ یہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدل کر مسلم اکثریتی ریاست کو ایک ہندوتوا غالب خطہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جنیوا کنونشن سمیت عالمی قوانین کی روح کے بھی سراسر منافی ہے۔ آبادیاتی تبدیلی کی یہ کوشش ایک نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاس ہے جو زمین پر تسلط کو دلوں کی غلامی سے مشروط کرنا چاہتی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو بندوق کی نوک پر محکوم نہیں بنایا جا سکتا۔
آج بھی جب کشمیر لہو رنگ موسموں سے گزر رہا ہےاور آزادی کا خواب لہو میں ڈوبا ہوا ہے تب بھی قراردادِ الحاقِ پاکستان کشمیریوں کے جذبۂ حریت، ان کی استقامت اور پاکستان سے ان کی فطری و نظریاتی وابستگی کا بنیادی حوالہ ہے۔ یہ قرارداد ایک عہد ہے، ایک نظریہ ہے ایک رشتہ ہےجو وقت کی گرد، جبر کی زنجیروں اور سازشوں کی گردوغبار سے بالاتر ہو کر کشمیریوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
بھارت ایک طرف سلامتی کونسل کی قراردادوں (47، 51، 80، 96، 98، 122، 126) کی واضح طور پر روگردانی کر رہا ہے تو دوسری طرف آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے ذریعے کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندوتوا کے تسلط میں لانے کی منظم کوشش کر رہا ہے جو جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بھارتی استبداد، طویل فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی مسلسل پامالیاں اور تہذیبی شناخت مٹانے کی منظم سازشی یہ سب وہ کٹھن سچائیاں ہیں جن کے سائے میں وادیٔ کشمیر کئی دہائیوں سے لہو رنگ موسموں سے گزر رہی ہے۔ گلیاں لہو سے تر اور ہوائیں آہوں سے بوجھل ہیں لیکن ان تمام اندھیری ساعتوں میں اگر کوئی امید کی شمع روشن ہے تو وہ تحریک تکمیل پاکستان قراردادِ الحاقِ پاکستان ہے وہ تاریخی اعلان جو صرف ایک تحریر نہیں بلکہ ایک عہد ہے ۔
کشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔ ہمیں اس تاریخی فیصلے پر فخر ہے کیونکہ اہل پاکستان نے آزمائش اور مشکل کے ہر لمحے میں کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔
عظیم آزادی پسند قائد سید علی گیلانی شہید کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیریوں کی پہنچان بن چکا ہے ، بھارت کا بے انتہا جبر وستم انکے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد، ان کے ناقابل شکست عزم، غیر متزلزل جذبے اور آزادی کی آرزو کا عملی اظہار ہے۔ کشمیری قوم ہر سال 19 جولائی کو اس تاریخی بندھن کی تجدید کرتے ہوئے دنیا پر واضح کرتی ہے کہ بھارت کی طاقت، جبر یا دھوکہ بازی کبھی بھی اس فطری اور تاریخی وابستگی کو ختم نہیں کر سکتی۔
اقوام متحدہ، عالمی اداروں، انسانی حقوق کے علَم برداروں اور مہذب دنیا کو اس نازک تر مگر دیرینہ مسئلے کا ادراک کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر محض جنوبی ایشیاء کی سلامتی کا سوال نہیں یہ پوری دنیا کے ضمیر، قانون، اخلاق اور انسانی حقوق کے مستقبل کا امتحان ہے۔ ان سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی انسانیت سوز پالیسیوں کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی، قانونی اور اخلاقی حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے عملی کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو۔







