مقبوضہ کشمیرسے متعلق امریکی سفیر کے بیانات پرصدر ٹرمپ سے وضاحت طلب سرجیو گور کا بیان اقوام متحدہ کے فریم ورک سے متصادم ہے۔ڈی ایف پی

اسلام آباد:جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کشمیر پر بھارت میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیر سے متعلق متنازعہ بیان پر واشنگٹن کی پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، ڈی ایف پی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے صدر ٹرمپ کو بھیجے گئے ایک خط میں تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی سفیر کا بیان ایک ایسے علاقے کی حتمی حیثیت کے بارے میں قبل از وقت فیصلے کی صورت اختیار کرگیا ہے جو کئی دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کا تنازع 1948ء سے اقوام متحدہ کے سامنے زیرِ التوا ہے اور سلامتی کونسل نے اس کے پرامن تصفیے کے لیے بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرتے ہوئے قراردادوں کا ایک سلسلہ منظور کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سلامتی کونسل کی قراردادوں 38، 39، 47، 51، 80، 91، 96، 98 اور 122 کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کو بھارت یا پاکستان کی طرف سے یکطرفہ طور پر متعین کرنے کے طور پر قبول نہیں کیا گیاتھا۔ڈی ایف پی کے رہنما نے کہا کہ 24 جنوری 1957ء کی قرارداد 122 نے اقوام متحدہ کے سابقہ اصولوں کی توثیق کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت اس کے عوام کی مرضی کے مطابق اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام آزاد اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے طے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون ساز اسمبلی کے اقدامات خود بخود اس سرزمین کی حیثیت کا حتمی فیصلہ نہیں بن سکتے۔محمود آنند ساغرنے کہا کہ امریکی سفیر سے منسوب بیان نے سنگین تحفظات پیدا کیے ہیں کہ کیا واشنگٹن نے کشمیر تنازع سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ واضح کریں کہ آیا سفیر کے بیانات امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے امریکی انتظامیہ سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ بھارت اور پاکستان کو بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دے اورتنازعے کے ایک پرامن اور منصفانہ تصفیے کی حمایت کرے جو کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات اور بنیادی حقوق کو مدِنظر رکھتا ہو۔محنودساغر نے خبردار کیا کہ تنازع کشمیر کی سیاسی نوعیت کو مسلسل نظرانداز کرنے سے دو ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان عدم اعتماد بڑھ سکتا ہے اور عدم استحکام طویل ہو سکتا ہے۔انہوں نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی کا ادراک کریں اور یقینی بنائیں کہ امریکی سفارتی نمائندوں کے بیانات واشنگٹن کی سرکاری پالیسی کی درست عکاسی کریں، انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر تنازع کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔







