بہار : طلبہ احتجاج کے دوران چھ سالہ بچہ گرفتار، پولیس کی کارروائی پر شدید ردعمل
راہل گاندھی سمیت دیگر رہنمائوں نے پولیس کارروائی پر سوالات اٹھا دیے
پٹنہ: بھا رتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بی پی ایس سی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے چھ سالہ بچے کو حراست میں لے لیا، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آدتیہ نامی بچہ اپنی والدہ کے ہمراہ احتجاج میں شریک تھا اور مظاہرین کی حمایت میں ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو اسے ڈاک بنگلہ چوک میں احتجاجی مقام سے لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔مظاہرین بہار پبلک سروس کمیشن کے 70ویں ابتدائی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بعض مراکز پر پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے باعث امتحان منسوخ کرکے دوبارہ کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ اور ملازمت کے امیدواروں کے خلاف پولیس نے کریک ڈائون کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال اور لاٹھی چارج کیا۔ متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ بعض مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی بچے کی حراست کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے بہار حکومت کی احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر سوال اٹھایاہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے طلبہ کا سیدھا سوال ہے کہ بھرتی کے امتحانات میں بے ضابطگیاں کیوں ہو رہی ہیں، پرچہ لیک ہونے کے الزامات پر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی اور نوجوانوں کے مستقبل سے یہ کھلواڑ کب تک جاری رہے گا۔راہل گاندھی نے کہا کہ بی پی ایس سی کا تنازع نیا نہیں اور طلبہ کئی ماہ سے بھرتی کے عمل، امتحانی طریقہ کار، تاخیر اور شفافیت کے مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت جواب دینے کے بجائے لاٹھیاں اور واٹر کینن استعمال کر رہی ہے اور طلبہ کو حراست میں لے رہی ہے.








