یکساں سول کوڈآئین کی بالادستی کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ سازش ہے: مولاناارشد مدنی
نئی دہلی: جمعیة علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار 21ریاستوں میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ آئین کی بالادستی کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیاایکس پر ایک پیغام میں یکساں سول کوڈ کو تمام شہریوں کو مذہبی آزادیوں سے محروم کرنے کی ایک ہتھکنڈہ قرار دیا۔انہوں نے مودی حکومت سے سوال کیاکہ کیا ملک آئین کے مطابق چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت۔انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پرسخت ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے 2029سے قبل بی جے پی کے زیراقتدار تمام 21ریاستوں میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کادعویٰ کیاتھا۔مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیة علمائے ہند بھارت کے سیکولر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں یکساں سول کوڈ کے خلاف درخواست دائر کی ہے اور ہمیں انصاف کی امید ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی ایسی قانون سازی کو قبول نہیں کریں گے جو مسلمانوں کے پرسنل لاز سے متصادم ہو اور اس مسئلے کو آئینی و مذہبی حقوق کا معاملہ قرار دیا۔انہوں نے واضح کیاکہ مسلمانوں کے عائلی قوانین قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں اور موجودہ سول قوانین ان قوانین کا متبادل ہیں، اس لیے یکساں سول کوڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہرکیاکہ اگر شیڈولڈ ٹرائبس کو اس قانون سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے توآئین کے آرٹیکل 25اور 26کے تحت مسلمانوں کی مذہبی آزادی کا احترام کیوں نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحث صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے سیکولر آئین کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ مودی حکومت ایک ملک، ایک قانون کا نعرہ تو لگاتی ہے مگر خود مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین موجود ہیں۔ارشدمدنی نے گائے کے تحفظ کے لیے طویل عرصے سے جاری مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مقصد شہریوں کی مذہبی آزادی سلب کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ایسی قانون سازی قابل قبول نہیں جو مذہبی آزادی میں مداخلت کرے۔






