مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز کی ظالمانہ کارروائیوں میں تیزی


سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے اختلاف رائے کو دبانے کے لئے اپنی ظالمانہ کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے گھروں پر چھاپوں، تلاشیوں اورہراسانی کا سلسلہ تیزکردیاجبکہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کردی ہے۔
بھارتی ایجنسی کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر نے بھارتی فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے ساتھ ملکر شوپیاں اور کولگام سمیت مختلف اضلاع میں رہائشی مکانات پر چھاپے مارے اورتلاشیاں لیں۔ فورسز نے ضلع کپواڑہ کے مختلف علاقوں میں بھی چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز اہلکاروںنے مقامی رہائشیوں کے ڈیجیٹل آلات، لیپ ٹاپس، موبائل فونز، گھریلو دستاویزات اور بینک ریکارڈز اپنے قبضے میں لے لیے۔بھارتی حکام نے دعوی کیا کہ گھروں پر چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھارت مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
اس سے قبل بھارتی تحقیقاتی اداروںاین آئی اے اورایس آئی اے نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت بانڈی پورہ، بارہمولہ، اسلام آباد، پونچھ اور اودھم پور اضلاع کے مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشیاں لیں۔ بھارتی فورسز نے ایک درجن سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی۔مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انسدادِ دہشت گردی کی تحقیقات کے نام پر محاصر ے اورتلاشی کی کارروائیاں،گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں اور ڈیجیٹل نگرانی ایک معمول بن چکی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں سیاسی اختلافِ رائے اور کشمیریوں کی آوازکو دبانے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کی جاتی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد پہلے ہی یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرکی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔
دریں اثناء بھارتی پولیس نے جنوبی کشمیر کے اسلام آباد اور کولگام اضلاع میں تین الگ الگ کارروائیوں کے دوران چار افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button