بھارتی پیراملٹری فورسز کے 3 اہلکاروں کی خودکشی
نئی دہلی: بھارتی ریاستوں تلنگانہ ،بہاراورچھتیس گڑھ میں مختلف واقعات میں بھارتی پیراملٹری فورسز کے 3 اہلکاروں نے خودکشی کر لی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے 30سالہ کانسٹیبل گاڈے پون کمار نے تلنگانہ میں حیدرآباد کے علاقے بورا بانڈا کی اندرا نگر کالونی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ نے بتایا کہ وہ شدید مالی دباو کا شکار تھا اور قرض کی ادائیگی نہ کر پانے کی وجہ سے پریشان تھا۔
ایک اور واقعے میں ریاست بہار میں ضلع کشن گنج کے علاقے ٹھاکر گنج میں سشاسترا سیما بل( ایس ایس بی)کے کیمپ میں تعینات ایک اہلکار نے اپنے سروس ریوالور سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کردیا۔یہ واقعہ جیا پوکھر پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔اطلاعات کے مطابق اہلکار اس وقت سنتری کی ڈیوٹی پر مامور تھا اور اس کا تعلق مغربی بنگال سے تھا۔فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کیمپ میں موجود اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد خودکشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم موت کی اصل وجہ اور حالات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہے۔
چھتیس گڑھ کے علاقے کانکیرکے کچھی کیمپ میں بھارتی پیراملٹری سشستر سیما بل کی 28ویں بٹالین کے ایک ہیڈ کانسٹیبل آنند پرکاش تیواری نے خودکشی کر لی۔ اتر پردیش کے رہائشی ہیڈ کانسٹیبل نے اپنی سروس رائفل سے گولی مار کر خودکشی کی۔کانکیر کے ایس نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل نے پیر کے روز کیمپ کے احاطے میں اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی ماری جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔فوری طورپر ہیڈ کانسٹیبل کی خودکشی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے ایک بار پھر بھارتی فوج اور پیرملٹری فورسزکے اہلکاروں کو درپیش شدید ذہنی و اعصابی دبائو، افسروں کے تحقیر آمیز سلوک، دور دراز علاقوں میں طویل عرصے تک تعیناتی، چھٹی نہ ملنا اور کام کے مشکل حالات کی عکاسی ہوتی ہے۔ سیاسی طور پر ہنگامہ خیز، شورش زدہ خطوں، معاندانہ ماحول اور پہاڑی علاقوں میں طویل عرصے تک تعیناتی فورسزاہلکاروں کو مسلسل نفسیاتی اورذہنی دبائوسے دوچار کر تی ہے، جبکہ اہلخانہ سے مسلسل دوری اور بروقت چھٹی نہ ملنے جیسی مشکلات ذہنی تناو میں مزید اضافہ کر تی ہیں۔اہلکاروں کو اکثر ان کی بنیادی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے علاوہ دیگر فرائض کے لیے بھی تعینات کیا جاتا ہے، جن میں امن و امان برقرار رکھنے کے آپریشنز، ہجوم پر قابو پانا، انتخابی ڈیوٹی، سکیورٹی کے انتظامات اور انسدادبغاوت کارروائیوں کے لیے طویل عرصے کی تعیناتی شامل ہیں۔ رپورٹس میں ان عوامل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو فورسز اہلکاروں میں ذہنی دباو کو بڑھا سکتے ہیں،ان میں کام کی جگہ پر دبائو، اعلی افسران کی جانب سے بدسلوکی یا تذلیل،اپنے عزیزوں سے مسلسل دوری، ازدواجی تنازعات اور جائیداد یا مالیات سے متعلق حل طلب مسائل شامل ہیں۔





