نئی دہلی:بی جے پی کی بھارتی حکومت کی ملک گیر یکساں سول کوڈکے نفاذ کی مہم کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ اس کے اہم ترین اتحادی جنتا دل (یونائیٹڈ) نے بہار میں اس متنازع قانون کو متعارف کرانے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
جے ڈی (یو)، جس کا بہار میں مسلم ووٹ بینک خاصا مضبوط سمجھا جاتا ہے، نے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ ریاست میں یو سی سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل این ڈی اے کے زیرِ اقتدار تمام 21 ریاستوں میں یہ کوڈ نافذ کر دیا جائے گا۔جے ڈی (یو) نے اس سے قبل بھی مناسب مشاورت کے بغیر یو سی سی پر کسی بھی قانون سازی کی مخالفت کی تھی۔ اس کا موجودہ موقف پارٹی کی بی جے پی کی اس مہم کی براہِ راست مخالفت ہے جس کا مقصد بھارت بھر میں شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے سمیت مختلف معاملات پر مشتمل یکساں قوانین نافذ کرنا ہے۔یہ اعلان بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد کے اندر ایک انتہائی متنازع مسئلے پر بڑھتے ہوئے اختلافات کو بے نقاب کرتا ہے، جو براہِ راست مذہبی اور شخصی قوانین سے وابستہ ہے۔ جہاں تلگو دیشم پارٹی اور شیو سینا سمیت اہم اتحادیوں نے امیت شاہ کے مطالبے کی حمایت کی ہے، وہیں بہار میں جے ڈی (یو) کی کھلی مخالفت حکمران اتحاد کے اندر اتفاقِ رائے کے فقدان اور بی جے پی کے یک طرفہ ایجنڈے پر تحفظات کو واضح کرتی ہے۔یو سی سی کے ناقدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے بھارت کے کثیر المذاہب معاشرے میں مذہبی اور ثقافتی آزادیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اقلیتوں کے شخصی قوانین کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم بی جے پی اس اقدام کو یکسانی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کا ذریعہ قرار دیتی ہے اور اسے 2029 کے انتخابات سے قبل اپنے سیاسی ایجنڈے کا ایک اہم ستون بنا رہی ہے۔تاہم جے ڈی (یو) کی مخالفت کو بی جے پی کی ملک گیر یو سی سی کے نفاذ کی کوشش کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت میں شخصی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر بڑھتی ہوئی سیاسی اور سماجی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ یو سی سی کے معاملے پر این ڈی اے کے اندر بھی مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔







